پرانے وقتوں میں کببوتروں کوپیغام رسانی کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن اب انہیں زندہ ڈرون بھی بنا دیا گیا ہے۔ جی ہاں، یہ کوئی سائنس فکشن فلم نہیں… بلکہ روس میں واقعی کبوتروں کو بایو ڈرون بنانے کا تجربہ کامیاب ہو گیا ہے۔
ماسکو کی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی نایری نے کبوتروں کے دماغ میں خاص چِپس لگاکر انہیں ریموٹ کنٹرول طیاروں کی طرح اڑایا ہے۔
کمپنی کے مطابق کبوتروں کے دماغ میں فِٹ کیے گئے الیکٹروڈ ایک سولر پاورڈ کنٹرول یونٹ سے جڑے ہوتے ہیں جو پرندے کی پشت پر لگایا جاتا ہے۔
یہ یونٹ سورج کی روشنی سے چارج ہوتا رہتا ہے، اور سائنسدان اس چِپ کے ذریعے کبوتروں کی اڑان کی سمت کنٹرول کر سکتے ہیں۔
یعنی اب کبوتر صرف پیغام رسانی نہیں بلکہ نگرانی، سروے، صنعتی معائنہ، ماحولیات کے مشنز، سرچ آپریشنز اور ریسکیو مشنز تک کے لیے استعمال ہوسکیں گے۔
ان بائیو ڈرونز میں چھوٹے کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جو انہیں عام ڈرونز سے زیادہ کارآمد بناتے ہیں۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ کبوتر نہ ہی کسی خاص ٹریننگ کے محتاج تھے اور نہ ہی اس ٹیکنالوجی کا ان کی صحت پر منفی اثر پڑا۔
نائری کے بانی الیگزنڈر پانووف کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کُوے، بطخ اور دیگر بڑے پرندوں پر بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
مختصر یہ کہ اگر آنے والے برسوں میں آپ کو ریموٹ کنٹرول والے کبوتر آسمان میں گشت کرتے نظر آئیں، تو حیران نہ ہوں—ٹیکنالوجی واقعی پر لگا رہی ہے۔











