پاکستان نے اکتوبر میں سرحد پر ہونے والی کشیدگی کے بعد اقوام متحدہ کے امدادی سامان کو افغانستان منتقل کرنے کے لیے عارضی اور محدود اجازت دے دی ہے۔ حکام کے مطابق سرحد جزوی طور پر پہلی بار دوبارہ کھولی جا رہی ہے۔
جرمن ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو کے مطابق ایک اعلیٰ پاکستانی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی درخواست پر حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر استثنیٰ دیتے ہوئے مخصوص کنٹینرز کو افغانستان جانے کی اجازت دی ہے۔ امدادی سامان میں خوراک، ادویات، طبی آلات اور صحت و تعلیم سے متعلق ضروری اشیا شامل ہیں۔ یہ امداد تین مراحل میں منتقل کی جائے گی، تاہم پہلے مرحلے کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
اقوام متحدہ کے ایک افسر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امدادی سامان جلد افغان حدود میں داخل ہو سکے گا۔
دوسری جانب سرحد کے قریب افغان شہر اسپین بولدک کے حکام نے کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی اور گیٹ بدستور بند ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے عام تجارت، آمد و رفت اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بحال نہیں کی۔
12 اکتوبر کی جھڑپوں کے بعد سرحد بند ہونے سے بڑی تعداد میں افغان ٹرک تجارتی سامان سمیت پھنس گئے تھے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نازک جنگ بندی بھی عمل میں آئی۔ پاکستان–افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے مطابق سرحدی بندش سے 10 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا اور 25 ہزار تک مزدور متاثر ہوئے۔
ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ پاکستان افغانستان کو چاول، ادویات اور خام مال فراہم کرتا ہے، جبکہ گزشتہ سال افغانستان کی 45 فیصد برآمدات پاکستان آئی تھیں۔











