میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سے فضائی حملوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، اور نئی لہر میں بدھ کی شب راکھین ریاست کے شہر مروک-یو کے جنرل اسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔ سرحدی علاقے میں ہونے والے اس حملے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 68 شدید زخمی ہوئے، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
عینی شاہد اور امدادی کارکن وائی ہون آنگ کے مطابق دھماکے سے اسپتال کا ایک پورا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ رات کے وقت اسپتال کے باہر کم از کم 20 لاشیں دکھائی دے رہی تھیں۔ صبح کے وقت منظر واضح ہوا تو ایک بڑی عمارت تباہ اور اطراف میں گہرا گڑھا نظر آیا۔
مقامی مکین ماونگ بو چائے نے بتایا کہ حملے میں اس کی بیوی، بہو اور اس کے والد ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے کہا، “میں پوری رات نہیں جانتا تھا کہ بم کہاں گرے ہیں… جب پتہ چلا کہ وہ تباہ شدہ حصے میں تھے تو سمجھ گیا کہ وہ زندہ نہیں بچے۔ میں شدید غم اور غصے میں ہوں۔”
راکھین ریاست کا زیادہ تر حصہ اراکان آرمی (اے اے ) کے کنٹرول میں ہے، جو طویل عرصے سے ایک طاقتور نسلی باغی گروہ کے طور پر فوج کے خلاف لڑ رہی ہے۔ اے اے نے بیان میں کہا کہ رات 9 بجے کیے گئے حملے میں 10 مریض موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
اراکان آرمی “تھری برادرہڈ الائنس” کی اہم رکن رہی ہے، جس نے 2023 میں فوج کے خلاف مؤثر مشترکہ کارروائیاں کیں۔ دیگر دو باغی گروہوں کے معاہدوں کے بعد اب اے اے واحد بڑا گروہ ہے جو فوجی حکومت کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
فوجی حکومت نے 28 دسمبر سے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، مگر باغی گروہوں نے اپنے زیرقبضہ علاقوں میں انتخابات روکنے کا اعلان کر رکھا ہے، جس سے لڑائی میں مزید شدت کا خدشہ ہے۔











