آسٹریا میں حکومت نے ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے جس کے تحت کم عمر لڑکیوں کے حجاب اور دیگر اسلامی پردے پر پابندی عائد کی جائے گی۔ یہ قانون رواں سال ستمبر میں نئے تعلیمی سال کے آغاز سے نافذ ہوگا، جبکہ فروری سے اس کے بارے میں آگاہی مہم شروع کی جائے گی۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں والدین پر 150 سے 800 یورو تک جرمانہ ہو سکے گا۔ حکومتی اندازوں کے مطابق تقریباً 12 ہزار مسلم لڑکیاں اس پابندی سے متاثر ہوں گی۔
جرمن ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو کے مطابق آسٹریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں اسکارف پر پابندی لڑکیوں کو ’’جبر‘‘ سے بچانے کے لیے لگائی جارہی ہے۔ تاہم مسلم کمیونٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متعدد سماجی گروپس اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔
مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ حجاب پر پابندی لگانا دراصل مسلم لڑکیوں کی لباس کے انتخاب کی آزادی کو محدود کرتا ہے اور انہیں معاشرے میں مزید الگ تھلگ کر سکتا ہے۔
آسٹریا میں مسلم تنظیم آئی جی جی او نے اس مسودہ قانون کو ’سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پابندی سے مسلم بچیوں کو بااختیار بنانے کے بجائے ان پر دباؤ بڑھے گا اور ان کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل آسٹریا اور دیگر حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے بھی اس قانون کو کھلا امتیاز اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے تعصب کی ایک مثال قرار دیا ہے۔
سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو یہ بتانا کہ وہ کیا پہن سکتی ہیں، آزادی و وقار کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
خواتین کے حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ حجاب پر پابندی کا پیغام یہ ہے کہ مسلم لڑکیوں کے جسم اور لباس کے بارے میں فیصلے وہ خود نہیں بلکہ معاشرہ کرے گا—جو ان کے مطابق ایک منفی اور غیر منصفانہ رویہ ہے۔











