اہم ترین

دن میں دو مرتبہ مونگ پھلیاں کھائیں اور دماغی صحت بہتر بنائیں: یورپی تحقیق

نیدرلینڈز کی ماستریخت یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ دو مقدار مونگ پھلی کھانے سے عمر رسیدہ افراد کی دماغی صحت میں بہتری آسکتی ہے ۔ یہ تحقیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صرف امریکا میں ہی 2025 تک الزائمر کے مریضوں کی تعداد 70 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس بیماری کا کوئی حتمی علاج موجود نہیں۔

طبی جریدے کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ چھلکے سمیت بھنی ہوئی مونگ پھلی دماغ میں خون کے بہاؤ کو بہتر بناتی ہے، خاص طور پر ان حصوں میں جو یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نتائج علاج نہیں بلکہ دماغی افعال کو بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تحقیق میں 60 سے 75 سال کی عمر کے 31 صحت مند مرد و خواتین کو شامل کیا گیا۔ شرکاء کو دو مراحل سے گزارا گیا۔ ایک مرحلے میں انہوں نے مونگ پھلی نہیں کھائی جبکہ دوسرے مرحلے میں روزانہ 60 گرام بغیر نمک چھلکے والی بھنی مونگ پھلی دی گئی۔ اس دوران دیگر گری دار میوے کھانے کی اجازت نہیں تھی۔

نتائج کے مطابق مونگ پھلی کھانے والے مرحلے میں دماغی خون کے بہاؤ میں مجموعی طور پر 3.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ دماغ کے گرے میٹر میں یہ اضافہ 4.5 فیصد رہا۔ یادداشت اور فیصلے سے جڑے حصوں، جیسے فرنٹل اور ٹیمپورل لوب، میں خون کی روانی میں نمایاں بہتری آئی۔

یادداشت کے ٹیسٹ میں بھی شرکاء کی کارکردگی قدرے بہتر رہی اور انہوں نے ایک اضافی لفظ درست طور پر پہچانا۔ اس کے علاوہ شرکاء کے بلڈ پریشر میں بھی کمی دیکھی گئی، جو دل اور فالج کے خطرات کم کرنے میں اہم سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، مگر شرکاء کی تعداد کم ہونے کے باعث مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود یہ مطالعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ صحت مند غذائی عادات، جیسے مونگ پھلی کا باقاعدہ استعمال، بڑھتی عمر میں دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔

پاکستان