دو دہائیوں سے زائد عرصے میں عالمی خلائی صنعت کا نقشہ بدلنے والی کمپنی اسپیس ایکس اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ ایلون مسک اپنی ریکارڈ ساز کمپنی کو اسٹاک مارکیٹ میں لانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جسے ماہرین تاریخ کی سب سے بڑی آئی پی او قرار دے رہے ہیں۔
اسپیس ایکس اس وقت ایلون مسک، مختلف سرمایہ کاری فنڈز اور گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ سمیت چند بڑے سرمایہ کاروں کی ملکیت ہے۔ پبلک ہونے سے کمپنی کے دروازے عام سرمایہ کاروں کے لیے کھل جائیں گے جبکہ موجودہ شیئر ہولڈرز کو بھاری منافع کمانے کا موقع ملے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ سرمایہ انتہائی اہم ہے کیونکہ خلائی صنعت ایک مہنگا کاروبار ہے۔ اگرچہ اسپیس ایکس کو نجی مارکیٹ میں کبھی فنڈز کی کمی نہیں رہی، مگر اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ اور لیکویڈیٹی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اندازہ ہے کہ آئی پی او کے ذریعے 30 ارب ڈالر سے زائد رقم حاصل ہو سکتی ہے، جس سے کمپنی کی مجموعی مالیت 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خلائی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ 2023 میں اس شعبے کی مالیت 630 ارب ڈالر تھی اور توقع ہے کہ 2035 تک یہ تین گنا ہو جائے گی۔ اسپیس ایکس اس میدان میں اپنی ری یوزایبل راکٹس اور اسٹارلنک سیٹلائٹ نیٹ ورک کے باعث سب سے نمایاں مقام رکھتی ہے۔
ایلون مسک کا خواب مریخ پر انسانی آبادی بسانا ہے اور اسپیس ایکس اسی وژن کے گرد گھومتی ہے۔ اسٹار شپ راکٹ، چاند اور مریخ مشنز، اور خلا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز جیسے منصوبوں کے لیے مزید سرمایہ اس خواب کو تیز رفتاری سے حقیقت میں بدل سکتا ہے۔
تاہم پبلک کمپنی بننے کا مطلب زیادہ شفافیت اور منافع کے لیے دباؤ بھی ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے اسپیس ایکس کے تجرباتی اور جرات مندانہ انداز پر اثر پڑ سکتا ہے، مگر دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار ایلون مسک کے وژن کو ہی اسپیس ایکس کی اصل طاقت سمجھتے ہیں۔
اگر یہ منصوبہ حقیقت بن جاتا ہے تو نہ صرف مالیاتی دنیا بلکہ پوری خلائی صنعت میں ایک نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے











