اہم ترین

آسٹریلیا میں یہودیوں کی مذہبی تقریب کےدوران فائرنگ سے 12 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں یہودی تہوار حنوکا کے موقع پر فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 12افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو مشہور ساحلی مقام بانڈی بیچ پر پیش آیا، جہاں ایک ہزار سے زائد افراد حنوکا کی تقریب میں شریک تھے۔ زخمیوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر مال لینن نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے دو مشتبہ افراد میں سے ایک حملہ آور پولیس کارروائی کے دوران ہلاک ہو گیا، جبکہ دوسرے مشتبہ شخص کو شدید زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کو دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے حملہ آور کے زیر استعمال ایک گاڑی سے دیسی ساختہ بم بھی برآمد کیا ہے، جبکہ اس امکان کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا اس حملے میں کوئی تیسرا فرد بھی ملوث تھا۔ کمشنر نے مزید کہا کہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر پولیس کو خصوصی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے واقعے کو ’’تباہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہودی برادری پر حنوکا کے پہلے دن کیا گیا یہ حملہ نفرت اور دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حنوکا خوشی، امن اور عقیدے کا تہوار ہے، مگر اس دن تشدد نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ آسٹریلیا میں نفرت، تشدد اور دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں اور حکومت اس کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

واقعے کے دوران سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایک عام شہری کو غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مسلح حملہ آور کو قابو میں کرتے دیکھا گیا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ اس شخص نے جان پر کھیل کر حملہ آور سے اسلحہ چھین لیا، جس پر نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ کرس منس نے اسے ’’حقیقی ہیرو‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کی جرات کی بدولت بے شمار جانیں بچ گئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ طویل اور شدید تھی۔ چلی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ طالب علم کیمیلو ڈیاز نے بتایا کہ لگاتار کئی منٹ تک فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں اور یہ کسی طاقتور ہتھیار سے کی گئی فائرنگ محسوس ہو رہی تھی۔

اس واقعے پر عالمی سطح پر بھی شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ناروے کے وزیراعظم یوناس گہر اسٹور، اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی، اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل الباریس اور آئرلینڈ کی وزیر خارجہ ہیلن میک انٹی سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور متاثرہ افراد، ان کے خاندانوں اور یہودی برادری سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

آسٹریلوی حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور ملک بھر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔

پاکستان