اہم ترین

امریکا میں ٹک ٹاک پابندی سے بچ گیا؟ اوریکل کے مالک کےساتھ معاملات طے

ٹک ٹاک نے امریکا میں پابندی سےبچنےکے لئے سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے کا معاہدہ کیا ہے جو کمپنی کو امریکا میں اپنے آپریشنز جاری رکھنے کی اجازت دے گا اور چینی ملکیت کی وجہ سے پابندی کے خطرے سے بچائے گا۔

اے ایف پی کے مطابق ٹک ٹاک کے سی ای او شو چیؤ نے کمپنی کے ملازمین کو ایک اندرونی یادداشت میں بتایا ہے کہ ٹک ٹاک اور اس کی چینی مالک کمپنی بائٹ ڈانس نے امریکا میں ایک نئی کمپنی قائم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس نئے ادارے میں امریکی کمپنی اوریکل، سرمایہ کاری فرم سلور لیک اور ابو ظہبی کی سرمایہ کاری کمپنی ایم جی ایکس بڑے سرمایہ کار ہوں گے۔

شو چیؤ کے مطابق یہ نیا امریکی ادارہ امریکی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ، الگورتھم کی سیکیورٹی، مواد کی نگرانی اور سافٹ ویئر کی جانچ کا ذمہ دار ہوگا۔ اس ادارے کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ امریکی حکومت کو یقین دہانی کرائے کہ امریکی صارفین کا ڈیٹا اور مواد محفوظ ہے۔

یادداشت کے مطابق نئی کمپنی کا 50 فیصد حصہ نئے سرمایہ کاروں کے پاس ہوگا، جن میں اوریکل، سلور لیک اور ایم جی ایکس شامل ہیں، اور ہر ایک کے پاس 15 فیصد حصص ہوں گے۔ بائٹ ڈانس کے موجودہ سرمایہ کاروں سے وابستہ ادارے 30 فیصد سے کچھ زائد حصص کے مالک ہوں گے، جبکہ بائٹ ڈانس خود 20 فیصد سے کم حصص رکھے گا، جو کہ امریکی قانون کے تحت کسی چینی کمپنی کے لیے زیادہ سے زیادہ حد ہے۔

نئی امریکی کمپنی عالمی سطح پر ٹک ٹاک کی ایپس کے باہمی رابطے، ای کامرس، اشتہارات اور مارکیٹنگ جیسے تجارتی معاملات بھی سنبھالے گی۔

یہ تمام اقدامات اس امریکی قانون کے تحت کیے جا رہے ہیں جسے سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز فروخت کرنا لازم تھا، ورنہ امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی لگ سکتی تھی۔

امریکی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ چین ٹک ٹاک کے ذریعے امریکی صارفین کا ڈیٹا حاصل کر سکتا ہے یا اس کے الگورتھم کے ذریعے اثر و رسوخ استعمال کر سکتا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ حکومت اور بعد میں بھی اس قانون پر عملدرآمد کی مدت میں کئی بار توسیع کی۔

اوریکل کے بانی لیری ایلیسن، جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، اس معاہدے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ شو چیؤ کے مطابق معاہدے کو 22 جنوری تک حتمی شکل دی جانی ہے اور ابھی مزید کام باقی ہے۔

پاکستان