اہم ترین

صدر ٹرمپ نے امریکا کے 900ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ پر دستخط کردیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےدو روز قبل ایوان نمائندگان میں منظور کئے گئے 900 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ پر دستخط کر دیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بڑے دفاعی پالیسی بل پر دستخط کر کے اسے قانون بنا دیا، جس سے یورپ اور نیٹو کے لیے مضبوط دوطرفہ (بائی پارٹیزن) حمایت کا عندیہ ملا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کے مطابق اس قانون کے تحت امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے، صدر ٹرمپ کے “امن بذریعہ طاقت” ایجنڈے کو قانونی شکل دی گئی ہے، اور جدید فضائی و میزائل دفاعی نظام “گولڈن ڈوم” کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

تقریباً 900 ارب ڈالر مالیت کے اس دفاعی بجٹ میں قدامت پسندوں کی مخالفت کے پیش نظر تنوع، مساوات اور شمولیت (ڈی ای آئی) جیسے پروگرامز ختم کر دیے گئے ہیں، جبکہ ترقی اور پروموشن کو صرف میرٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

یہ بل بدھ کے روز سینیٹ سے باآسانی منظور ہوا، جب کہ ایوانِ نمائندگان نے اس کی منظوری گزشتہ ہفتے دی تھی۔

یورپی دارالحکومتوں میں صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے باعث تشویش پائی جا رہی تھی، خاص طور پر نئی قومی سلامتی حکمتِ عملی میں یورپ کو حد سے زیادہ قوانین کا شکار، ثقافتی طور پر کمزور اور دفاع کے معاملے میں غیر سنجیدہ قرار دیا گیا تھا۔

اس کے برعکس این ڈی اےاے قانون امریکا کے یورپ میں مضبوط کردار کو یقینی بناتا ہے۔ اس قانون کے تحت یورپ میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد 76 ہزار سے کم نہیں کی جا سکتی اور بڑے فوجی سازوسامان کی واپسی پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

قانون میں بالٹک ریاستوں سمیت نیٹو کے فرنٹ لائن ممالک کے لیے اضافی وسائل بھی شامل ہیں، تاکہ نیٹو کے مشرقی محاذ کو مضبوط کیا جا سکے۔

یورپ کے علاوہ، اس بل کے تحت یوکرین کے لیے 400 ملین ڈالر کی سیکیورٹی امداد کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ جنوبی کوریا میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی پر بھی نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

اگرچہ اس قانون کو یوکرین امداد کے ناقدین اور فضائی تحفظ کے ماہرین کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا، تاہم کوئی بھی اعتراض اس اہم قانون کی منظوری میں رکاوٹ نہ بن سکا۔

پاکستان