سوئیڈن کے طبی ماہرین اپنی حالیہ تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زیادہ چکنائی والی پنیر اور بالائی (کریم) کا استعمال ڈیمنشیا (یادداشت کی بیماری) کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
طبی جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کی سربراہ سویڈن کی لنڈ یونیورسٹی کی ماہرِ غذائیت ایملی سونیسٹیڈٹ کا کہنا ہے کہ برسوں سے پنیر کو غیر صحت بخش سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن ان کے مطالعے نے اس سوچ کو چیلنج کر دیا ہے۔
ان کے مطابق کچھ زیادہ چکنائی والی ڈیری مصنوعات دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ 20 فیصد سے زیادہ چکنائی والے چیڈر، بری اور گوڈا جیسے پنیر اور 30سے40 فیصد چکنائی والی مختلف اقسام کی بالائی کا متوازن استعمال ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کردیتا ہے۔
محققین نے سویڈن کے تقریباً 27 ہزار 700 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جن کی اوسط عمر 58 سال تھی۔ ان افراد کو 25 سال تک فالو کیا گیا، اس دوران 3,200 سے زائد افراد میں ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی۔
شرکاء سے ان کی روزمرہ خوراک کے معمولات کاڈیٹا اکٹھاکیاگیا ۔ جس کی روشنی میں دیکھا گیا کہ جو افراد روزانہ 50 گرام یا اس سے زیادہ چکنائی والی پنیر کھاتے تھے، ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ 13 فیصد کم پایا گیا۔
ان افراد جو دماغ میں خون کی روانی متاثر ہونے سے ہونےوالے ویسکولر ڈیمنشیا کا خطرہ 29 فیصد کم تھا۔ اس کے علاوہ الزائمر کا خطرہ بھی 13 فیصد کم ہوا، مگر صرف ان افراد میں جن میں جینیاتی خطرہ موجود نہیں تھا۔
روزانہ 20 گرام یا اس سے زیادہ کریم استعمال کرنے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ 16 فیصد کم دیکھا گیا۔ البتہ لو فیٹ پنیر، دودھ، مکھن، دہی یا چھاچھ کے استعمال سے ایسا کوئی فائدہ ثابت نہیں ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک اور غذائی عادات رکھنے والی آبادیوں میں مزید تحقیق ضروری ہے، کیونکہ سویڈن میں پنیر اکثر بغیر پکائے کھائی جاتی ہے، جبکہ امریکا میں پنیر زیادہ تر گوشت یا گرم کھانوں کے ساتھ استعمال ہوتی ہے۔











