اہم ترین

ڈپریشن اور بے چینی دل کے لیے خاموش خطرہ کیوں؟ سائنسدانوں نے وجہ جان لی

ڈپریشن اور اینگزائٹی (بے چینی) کو پہلے ہی دل کے دورے، دل کی بیماری اور فالج کے خطرے سے جوڑا جاتا رہا ہے، لیکن اب ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ وہ اس کی ممکنہ وجہ بھی جان چکے ہیں۔

امریکا کے معروف طبی جریدے سرکولیشن: کارڈیو ویسکیولر امیجنگ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ ذہنی بیماریاں دماغ اور اعصابی نظام میں ایسی سرگرمیاں پیدا کرتی ہیں جو دل پر اضافی دباؤ ڈالتی ہیں اور وقت کے ساتھ سنگین امراض کا سبب بن سکتی ہیں۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل کے ماہرِ قلب ڈاکٹر شیڈی ابو ہاشم کے مطابق یہ نتائج واضح کرتے ہیں کہ جذباتی دباؤ کس طرح جسم کے اندر جا کر دل کی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ ذہنی صحت کو دل کی بیماری کے خطرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین نے 85 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جن میں تقریباً **15 ہزار افراد ڈپریشن اور اینگزائٹی دونوں میں مبتلا تھے۔ 15,800 سے زائد افراد کو ان میں سے کوئی ایک مسئلہ تھاجبکہ باقی افراد ذہنی بیماریوں سے محفوظ تھے۔

شرکاء کی تین سال سے زائد عرصے تک نگرانی کی گئی، جس دوران 3000 سے زیادہ افراد دل کے دورے، دل کی کمزوری یا فالج کا شکار ہوئے۔

ماہرین کے مطابق ڈپریشن یا اینگزائٹی میں مبتلا افراد کو دل کے دورے یا فالج کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔جن افراد کو دونوں بیماریاں تھیں، ان میں یہ خطرہ 32 فیصد زیادہ پایا گیا۔ یہ خطرہ سگریٹ نوشی، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا طرزِ زندگی سے ہٹ کر بھی برقرار رہا۔

دماغی اسکینز سے معلوم ہوا کہ ڈپریشن اور اینگزائٹی کے مریضوں میں دماغ کے اس حصے میں امیگدالاکی سرگرمی زیادہ ہوتی ہے جو دباؤ اور خوف سے جڑا ہوتا ہے۔ساتھ ہی ان افراد میں سی آر پی نامی پروٹین کی سطح بھی بلند پائی گئی، جو جسم میں سوزش کی علامت ہے۔

ڈاکٹر ابو ہاشم کے مطابق جب دماغ کے اسٹریس سرکٹس زیادہ متحرک ہوں تو وہ جسم کے ’فائٹ یا فلائٹ‘ نظام کو مسلسل چلاتے رہتے ہیں، جس سے دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور سوزش بڑھتی ہے۔ یہی عمل وقت کے ساتھ دل کی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی حفاظت صرف خوراک اور ورزش سے نہیں۔ ذہنی سکون اور جذباتی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے۔

اگرچہ یہ تحقیق براہِ راست وجہ اور نتیجہ ثابت نہیں کرتی، مگر ماہرین اب اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ اسٹریس کم کرنے کے طریقے اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ذہنی مریضوں میں دل کے خطرات کم کر سکتی ہیں یا نہیں۔

پاکستان