اہم ترین

انسانوں کے ساتھ روبوٹس کا ڈانس؛ ویڈیو دیکھ کر ایلون مسک بھی حیران

چین کے شہر چینگدو میں مشہور گلوکار وانگ لیہوم کے ’بیسٹ پلیس ٹور‘ کنسرٹ نے اس وقت دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی، جب اسٹیج پر جی ون ہیومنائیڈ روبوٹس نے رقاصاؤں کے ساتھ مل کر مستقبل کے رقص کا حیران کن مظاہرہ پیش کیا۔

لائیو میوزک، دلکش لائٹنگ اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ان روبوٹس نے ایسا رقص کیا کہ شائقین دنگ رہ گئے۔ روبوٹس کی تیز، درست اور بے حد نفیس حرکات نے یہ تاثر دیا کہ وہ کسی مشین کے بجائے تربیت یافتہ فنکار ہیں۔

کنسرٹ کے دوران روبوٹس نے فرنٹ فلپ اور ویبِسٹر فلپ جیسے مشکل کرتب بھی انجام دیے، جنہوں نے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔ بیگی پینٹس اور اسٹائلش شرٹس میں ملبوس یہ روبوٹس نہ صرف تکنیکی طور پر بلکہ ظاہری انداز میں بھی اسٹیج کی شان بن گئے۔

جیسے ہی گلوکار کا مشہور گانا اوپن فائر شروع ہوا، روبوٹس اسٹیج پر نمودار ہوئے اور وانگ لیہوم کی کوریوگرافی کے عین مطابق رقص کرنے لگے۔ خاص بات یہ تھی کہ ان کی حرکات بالکل بھی مشینی محسوس نہیں ہو رہی تھیں بلکہ موسیقی کی لے کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نظر آ رہی تھیں۔

پرفارمنس کے اختتام پر تمام روبوٹس نے ایک ساتھ شاندار فلپ لگا کر کنسرٹ کو یادگار بنا دیا۔ گلوکار کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق یہ تمام ہیومنائیڈ روبوٹس ہانگژو کی معروف روبوٹکس کمپنی ’یونیٹری روبوٹکس‘ نے تیار کیے ہیں۔

اس شاندار مظاہرے نے دنیا کے معروف صنعت کار ایلون مسک کو بھی متاثر کیا، جنہوں نے اس کنسرٹ کی وائرل ویڈیو کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ری پوسٹ کرتے ہوئے صرف ایک لفظ متاثر کن لکھا۔

چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اس پرفارمنس پر زبردست بحث جاری ہے۔ صارفین روبوٹس کے رقص کی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں اور اسے فن اور ٹیکنالوجی کے حسین امتزاج قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کنسرٹ کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس انسانوں کی جگہ لینے نہیں بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے ہیں۔

پاکستان