اہم ترین

ہمارے مدارس سے بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کو خطرہ ہے: مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ وہاں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو محدود کر دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں لوگوں کے دل و دماغ میں مدارس کے حوالے سے تحفظات ڈالے جا رہے ہیں جو تشویشناک ہیں۔

کراچی میں جلسےسے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ علمائے کرام نے ہمیشہ مشترکہ نصاب اور یکساں تعلیمی نظام کی بات کی، مگر بیوروکریسی نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ آج یہی نظام ان کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور انہیں اپنی حکومت، بیوروکریسی اور صنعت کاروں سے خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کو ایک مضبوط اور طاقتور ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، مگر محض میٹھی میٹھی باتوں سے قوم کو بہکایا جا رہا ہے۔ 2004 کے دسمبر تک مذاکرات ہوتے رہے اور 2010 میں دینی مدارس نے حکومت کی شرائط کو بھی تسلیم کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1857 سے قبل برصغیر میں اس طرز کے مدارس موجود نہیں تھے۔ انگریز حکومت کی نگرانی میں علی گڑھ میں مدرسہ اسکول قائم کیا گیا اور اس کے نصاب میں تبدیلیاں کی گئیں، یہاں تک کہ حدیث جیسے اہم مضمون کو نصاب سے نکال دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت فارسی برصغیر کی سرکاری زبان تھی اور انگریز دور میں اسلامی علوم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے مقابلے میں برصغیر کے علما نے ان علوم کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا اور دیوبند میں مدرسہ قائم کیا۔

پاکستان