اہم ترین

مادھوری بنیں سیریل کلر: مسز دیش پانڈے کو کیریئر کا مشکل ترین کردار قرار دے دیا

اپنی مسکراہٹ، رقص اور شاندار اداکاری سے کروڑوں دلوں پر راج کرنے والی بالی ووڈ سپر اسٹار مادھوری ڈکشٹ ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ اس بار وجہ ہے ان کی آنے والی ویب سیریز ’مسز دیش پانڈے‘، جس میں وہ ایک سیریل کلر کے کردار میں نظر آئی ہیں۔

بھارتی نیوز ویب سائیٹ نوو بھارت میں مادھوری ڈکشٹ کا انٹرویو شائع ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے اپنے کیریئر، بدلتے سنیما، خواتین کی برابری اور ذاتی زندگی پر کھل کر بات کی۔

مادھوری کہتی ہیں کہ بچپن میں ان کے والد اخبارات میں فلمی ریویوز پڑھتے تھے اور بہترین ریویو والی فلم ہی دیکھی جاتی تھی۔ اسی وجہ سے شابانہ اعظمی اور سُمیتا پاٹل جیسی آرٹ ویو اداکاراؤں کی فلموں نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔

وہ کہتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ چاہے کمرشل فلم ہو، اداکاری میں سچائی ہونی چاہیے، اسی لیے میں نے مرتیودنڈ جیسی فلم کی، جو اُس وقت بہت الگ تھی۔

منفی کرداروں کی طرف جھکاؤ ؟

فیم گیم، بھول بھلیاں 3 اور اب مسز دیش پانڈے۔۔ مادھوری کے مطابق یہ کردار منفی نہیں بلکہ پیچیدہ ہیں۔۔ مسز دیش پانڈے ایک عام سی گھریلو عورت دکھتی ہے، مگر اس کے اندر کئی پرتیں چھپی ہیں، جو اس کردار کو نہایت چیلنجنگ بناتی ہیں۔

سینما بمقابلہ او ٹی ٹی: کیا کمی محسوس ہوتی ہے؟

مادھوری کو آج کے دور میں سب سے زیادہ سستے سینما ہالز کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اب تھیٹر میں صرف بڑی، مہنگی فلمیں چلتی ہیں، جبکہ جذباتی اور چھوٹی فلمیں او ٹی ٹی پر چلی جاتی ہیں۔اس سوچ کو توڑنا ہوگا۔

بطور پروڈیوسر مشکلات

دو مراٹھی فلمیں پروڈیوس کرنے والی مادھوری مانتی ہیں کہ چھوٹی فلموں کو تھیٹر ملنا آج بہت مشکل ہو گیا ہے۔ بڑی ہندی فلمیں ریلیز ہوتے ہی اسکرینز پر چھا جاتی ہیں، جس سے علاقائی اور چھوٹی فلمیں متاثر ہوتی ہیں۔

معاوضہ اور برابری

مادھوری کہتی ہیں کہ مرداور خواتین فنکاروں میں برابری پر بات ضروری ہے۔ ان کے مطابق جس اداکار کے نام پر فلم چلتی ہے، وہ اپنی فیس مانگنے کا حق رکھتا ہے۔چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ یہ مکالمہ اس لیے ضروری ہے تاکہ انڈسٹری میں عورتوں کی جگہ مزید مضبوط ہو۔

کامیاب شادی کا راز

مادھوری نے کہا کہ گھر میں داخل ہوتے وقت وہ اسٹار ہونے کا بوجھ دروازے کے باہر چھوڑ دیتی ہیں۔ گھر میں وہ صرف ایک بیوی، ماں، بیٹی اور بہن ہیں۔ بس یہی ان کے کامیاب رشتے کا راز ہے۔

بچوں کو چکاچوند سے دور کیسے رکھا؟

وہ کہتی ہیں کہ بچوں کے ساتھ نارمل فیملی کی طرح وقت گزارنا، باتیں کرنا، ساتھ کھانا بنانا اور واک پر جانا بہت ضروری ہے۔ لائم لائٹ میں آنا یا نہیں، یہ فیصلہ انہوں نے بچوں پر چھوڑ دیا ہے۔

پاکستان