واٹس ایپ اب اپنے پلیٹ فارم پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت نظر آ رہا ہے۔ کمپنی نے اکتوبر 2025 تک کے ڈیٹا میں انکشاف کیا ہے کہ صرف ایک مہینے میں تقریباً 98 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی گئی۔ اس بڑے ایکشن کے بعد یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ بھارتی موبائل نمبرز کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہا ہے اور سائبر فراڈ پر قابو پانا مشکل بنتا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ ہر مہینے اپنی ٹرانسپیرنسی رپورٹ جاری کرتا ہے، جس میں سروس شرائط کی خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس کی تفصیل دی جاتی ہے۔ جون 2025 میں واٹس ایپ نے 98.7 لاکھ اکاؤنٹس بلاک کیے، جن میں سے 19.7 لاکھ اکاؤنٹس صارفین کی شکایت سے پہلے ہی بند کر دیے گئے تھے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم پلیٹ فارم کے غلط استعمال، اسپام اور فراڈ کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اسی مہینے بھارتی صارفین کی جانب سے واٹس ایپ کو 23 ہزار 596 شکایات موصول ہوئیں، مگر ان میں سے صرف ایک ہزار شکایات پر ہی کارروائی کی گئی۔ زیادہ تر شکایات اکاؤنٹ بین کے خلاف اپیل سے متعلق تھیں، لیکن صرف 756 اکاؤنٹس پر کوئی ایکشن لیا گیا۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ 350 سیکیورٹی اور بدسلوکی سے متعلق رپورٹس پر کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا، جس سے واٹس ایپ کے شکایت نظام کی شفافیت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔
واٹس ایپ کے مطابق، اس کے خودکار سسٹمز رجسٹریشن، میسج بھیجنے کے انداز اور منفی فیڈبیک کی بنیاد پر مختلف مراحل میں اکاؤنٹس کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔
واٹس ایپ کو نجی گفتگو کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پلیٹ فارم اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن استعمال کرتا ہے، جس کی وجہ سے میسج کا مواد صرف بھیجنے والے اور وصول کرنے والے کو ہی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موبائل نمبرز یا چیٹ ڈیٹا شیئر نہ کرنے کی پالیسی پر کمپنی قائم ہے، جس سے سرکاری اداروں کے لیے نگرانی مشکل ہو جاتی ہے۔
واٹس ایپ پر اسپامنگ، فراڈ، بڑی تعداد میں میسجز بھیجنا، گمراہ کن معلومات پھیلانا، غیر قانونی سرگرمیاں اور ہراسانی جیسی حرکتیں اکاؤنٹ بین ہونے کی بڑی وجوہات ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صارفین کے لیے ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد ماحول بنانا ہے، خاص طور پر بھارت جیسے ملک میں جہاں واٹس ایپ سب سے اہم کمیونیکیشن ٹول بن چکا ہے۔











