اہم ترین

ارب پتیوں کا سال 2025: دولت، طاقت اور اے آئی نے دنیا کا نقشہ بدل دیا

سال 2025 کو اگر کسی ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے ’’ارب پتیوں کا عروج‘‘۔ دنیا میں دولت بنانے کی رفتار اس سال اس حد تک تیز رہی کہ ارب پتی بننا اب کسی دہائیوں پر محیط جدوجہد کے بجائے چند برسوں اور بعض اوقات چند مہینوں — کا کھیل بن گیا۔

فوربز کی رپورٹ کے مطابق رواں برس اکتوبر کے آغاز میں نیویارک اسٹاک ایکسچینج کی پیرنٹ کمپنی کی جانب سے پولی مارکیٹ میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نے 27 سالہ شین کوپلین کو دنیا کا کم عمر ترین خود ساختہ ارب پتی بنا دیا، مگر یہ اعزاز صرف تین ہفتے ہی قائم رہ سکا۔

اسی مہینے یعنی 27 اکتوبر کو اے آئی پر مبنی ریکروٹنگ اسٹارٹ اپ مرکور کی 10 ارب ڈالر ویلیوایشن نے اس کے محض 22 سالہ تین بانیوں کو تاریخ کے سب سے کم عمر ارب پتیوں کی فہرست میں شامل کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے مارک زکربرگ کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

خواتین ارب پتیوں کی دوڑ

خواتین میں بھی کم عمری میں دولت کے ریکارڈ ٹوٹتے رہے۔ ٹیلر سوئفٹ کے بعد پہلے لوسی گو اور پھر برازیل سے تعلق رکھنے والی سابق رقاصہ لوانا لوپس لارا نے یہ اعزاز حاصل کیا، جب ان کی کمپنی کیلشائی کی مالیت 11 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔

حیران کن اعداد و شمار

گزشتہ ایک سال میں دنیا بھر میں 340 سے زائد نئے ارب پتی سامنے آئے یعنی تقریباً روزانہ ایک نیا ارب پتی۔ جس کےبعد اب دنیا میں ارب پتیوں کی تعداد 3148 ہو چکی ہے، جو پانچ سال میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہے۔

ان کی مجموعی دولت 18.7 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 19 افراد اب 100 ارب ڈالر سے زیادہ کے مالک ہیں۔

طاقت اور سیاست

یہ بے پناہ دولت محض بینک اکاؤنٹس تک محدود نہیں رہی۔ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں 135 ارب پتیوں نے کھل کر سرمایہ لگایا، کئی نے نئی حکومت میں اثر و رسوخ حاصل کیا اور بعض تو براہ راست کابینہ کا حصہ بھی بن گئے۔

امریکا سے لے کر یورپ تک سیاست میں ارب پتیوں کی شمولیت اب ایک عالمی رجحان بن چکی ہے۔

ایلون مسک: دولت کی نئی تعریف

سال 2025 کا سب سے بڑا نام ایلون مسک رہا، جنہوں نے صرف ایک سال میں 333 ارب ڈالر کا اضافہ کیا۔ 754 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ وہ دنیا کے 620 کم ترین ارب پتیوں کی مجموعی دولت سے بھی زیادہ امیر ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب، لیری ایلیسن نے ایک ہی دن میں تقریباً 100 ارب ڈالر کا اضافہ کر کے تاریخ کا ریکارڈ قائم کیا۔

اےآئی: ارب پتی بنانے کی فیکٹری

مصنوعی ذہانت اس سال ارب پتی بنانے کی سب سے بڑی صنعت ثابت ہوئی۔ اوپن اےآئی، انتھروپک، انویدیا، ڈیپ سیک اور ڈیٹا سینٹرز سے جڑی کمپنیاں نئی دولت کا مرکز بن گئیں۔

ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہناہے کہ دنیا ایک واضح طور پر ارب پتی دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں دولت، ٹیکنالوجی اور طاقت ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ارب پتیوں کی تعداد بڑھے گی یا نہیں — سوال یہ ہے کہ یہ دولت دنیا کو کس سمت لے جائے گی؟

پاکستان