اہم ترین

غلط معلومات کے خلاف سرگرم افراد پر ٹرمپ پابندیاں؛ عمران احمد نے قانونی جنگ چھیڑدی

آن لائن غلط معلومات کے خلاف سرگرم ادارے سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ کے سربراہ عمران احمد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ عمران احمد نے امریکی ویزا پابندی کو “غیر آئینی اقدام” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت انہیں زبردستی امریکا سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔

عمران احمد برطانوی شہری اور سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ (سی سی ڈی ایچ) کے سربراہ ہیں۔وہ اُن 5 یورپی شخصیات میں شامل ہیں جنہیں امریکی محکمہ خارجہ نے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ یہ افراد امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ناپسندیدہ آرا کو سنسر کروانے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔

عمران احمد کے پاس امریکا کی مستقل رہائش (گرین کارڈ) موجود ہے۔ انہوں نے نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں دائر درخواست میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، دیگر اعلیٰ حکام اور محکمہ داخلہ کے سربراہان کو فریق بنایا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق عمران احمد کو گرفتاری، حراست اور ملک بدری کے خطرے کا سامنا تھا، تاہم ایک ضلعی جج نے فوری طور پر ان کی گرفتاری یا حراست روکنے کا عبوری حکم جاری کر دیا ہے۔ کیس کی مزید سماعت پیر کو متوقع ہے۔

عمران احمد نے کہا کہ وہ امریکا کو اپنا گھر سمجھتے ہیں، ان کی اہلیہ اور بیٹی امریکی شہری ہیں، لیکن کرسمس اپنے خاندان کے ساتھ گزارنے کے بجائے وہ اپنی غیر قانونی ملک بدری کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کسی غیر ملکی کو ملک میں داخل ہونے یا رہائش دینے کا پابند نہیں۔ عمران احمد کو سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں حکومتی طاقت کو ہتھیار بنانے کی کوششوں میں کردار ادا کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔

یہ اقدام یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر وضاحت طلب کرے گا اور ضرورت پڑنے پر یورپ کے ریگولیٹری خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عمران احمد اور ان کا ادارہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے خلاف رپورٹس جاری کرتا رہا ہے، جس پر ان کے اور ایلون مسک کے درمیان کئی بار شدید اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔

پاکستان