امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں بڑھتا ہوا درجۂ حرارت 2026 فٹبال ورلڈ کپ کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ شدید گرمی نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ شائقین کی صحت اور ٹورنامنٹ کے انتظامات کے لیے بھی بڑے مسائل کھڑے کر رہی ہے، جن پر تاحال مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
لاس اینجلس کے جدید ترین سو فائی اسٹیڈیم میں ورلڈ کپ کے آٹھ میچز کھیلے جائیں گے، انتظامیہ نے شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کر رکھے ہیں۔ اسٹیڈیم کے اندر 15 بڑے صنعتی مسٹنگ فین ذخیرہ کیے گئے ہیں، جو درجۂ حرارت 80 فارن ہائیٹ (26.7 سینٹی گریڈ) سے تجاوز کرنے پر شائقین کے گرد نصب کر دیے جائیں گے۔
سو فائی اسٹیڈیم کی چھت زمین سے تقریباً 45 میٹر بلند ہے، جو تماشائیوں کو دھوپ سے تحفظ فراہم کرتی ہے، جبکہ اطراف میں کھلے حصے بحرالکاہل سے آنے والی ہواؤں کو اندر داخل ہونے دیتے ہیں، جو قدرتی ایئر کنڈیشننگ کا کام کرتے ہیں۔
اسٹیڈیم انتظامیہ کے مطابق جب 70 ہزار افراد ایک ہی جگہ موجود ہوں، تو گرمی کے اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، اسی لیے فوری ردعمل کے منصوبے تیار رکھے گئے ہیں۔
تاہم ورلڈ کپ کے تمام 16 اسٹیڈیمز اتنے جدید نہیں۔ ماہرین کے مطابق جون اور جولائی میں کھیلا جانے والا یہ ورلڈ کپ شدید گرمی کے خطرات لیے ہوئے ہے۔ ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2026 ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں مونتری، میامی، کینساس سٹی، بوسٹن، نیویارک اور فلاڈیلفیا کو سب سے زیادہ خطرے والے میزبان شہر قرار دیا گیا ہے، جہاں نمی کے ساتھ درجۂ حرارت انسانی برداشت کی حد کے قریب پہنچ چکا ہے۔
اسی پس منظر میں فیفا نے تمام میچز میں 22 ویں اور 67 ویں منٹ پر لازمی کولنگ بریکس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، چاہے موسم کی صورتحال کچھ بھی ہو۔ اس کے علاوہ دن کے میچز زیادہ تر ایئر کنڈیشنڈ اسٹیڈیمز میں رکھے گئے ہیں، جبکہ خطرناک شہروں میں شام کے اوقات میں میچز شیڈول کیے گئے ہیں۔
کھلاڑیوں کی عالمی یونین فیفپرو نے ان اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم خبردار کیا ہے کہ کچھ میچز اب بھی ہائی رسک ہیں، خاص طور پر نیویارک میں فائنل، جو دوپہر تین بجے کھیلا جانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کا خطرہ صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں، بلکہ شائقین بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر شہری علاقوں میں کنکریٹ اور دھات کی وجہ سے درجۂ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے، جبکہ شراب نوشی پانی کی کمی کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔
فیفا نے تاحال واضح نہیں کیا کہ شائقین کو پانی کی بوتلیں لانے کی اجازت ہو گی یا نہیں، یا اسٹیڈیمز میں پانی کی فروخت کا کیا انتظام ہو گا۔
ماہرین موسمیات کے مطابق سب سے اہم حکمتِ عملی احتیاط اور آگاہی ہے، خاص طور پر غیر ملکی شائقین کے لیے جو مقامی موسم سے واقف نہیں ہوتے۔ اسی لیے کثیراللسانی انتباہی پیغامات کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔











