اہم ترین

انسٹاگرام میں بلیک میلنگ: خودکشی کرنے والےنوجوان کے والدین کا میٹا پرمقدمہ

اسکاٹ لینڈ کے ایک جوڑے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب ان کے کم عمر بیٹے مرے ڈوئی کو انسٹاگرام پر بلیک میلنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا۔ یہ برطانیہ میں اپنی نوعیت کا پہلا قانونی کیس قرار دیا جا رہا ہے۔

مرے ڈوئی کی عمر 16 سال تھی۔ وہ دسمبر 2023 میں اس وقت آن لائن فراڈ کا شکار ہوا جب مبینہ طور پر مغربی افریقا سے تعلق رکھنے والے افراد نے خود کو ایک کم عمر لڑکی ظاہر کر کے اس سے رابطہ کیا۔ بعد ازاں اسے دھمکی دی گئی کہ اگر رقم ادا نہ کی گئی تو اس کی نجی تصاویر اس کے اہلِ خانہ کو بھیج دی جائیں گی۔

مرے کے والدین نے امریکہ کی ایک عدالت میں میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انسٹاگرام نوجوانوں کے لیے محفوظ پلیٹ فارم نہیں تھا، اور کمپنی کو ایسے حفاظتی اقدامات کا علم تھا جو اس طرح کے جرائم کو روک سکتے تھے، مگر انہیں بروقت نافذ نہیں کیا گیا۔

مرے کی والدہ روز ڈوئی کا کہنا ہے کہ وہ یہ قانونی کارروائی صرف اپنے بیٹے کے لیے نہیں بلکہ ان تمام بچوں کے لیے کر رہی ہیں جو آن لائن بلیک میلنگ کا نشانہ بنے۔ ان کے مطابق شواہد موجود ہیں کہ میٹا کو کئی برس پہلے ہی معلوم تھا کہ اس کے پلیٹ فارمز پر بچوں کو نشانہ بنانا آسان ہے، لیکن منافع کو ترجیح دی گئی۔

میٹا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرتی ہے اور انسٹاگرام پر نوعمر صارفین کے لیے حفاظتی فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں پرائیویٹ اکاؤنٹس، مشتبہ پیغامات کی شناخت اور حساس تصاویر کو دھندلا کرنا شامل ہے۔

تاہم مرے کی والدہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں کیونکہ یہ صرف نئے اکاؤنٹس پر لاگو ہوتے ہیں، جبکہ پرانے اکاؤنٹس اس تحفظ سے محروم رہتے ہیں۔ ان کے مطابق پلیٹ فارم کے الگورتھمز بالغ افراد کو بچوں تک پہنچنے میں مدد دیتے رہے، جس پر اندرونی سطح پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

مرے کے والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ میٹا اپنے کردار کو تسلیم کرے اور بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو ایسے نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پاکستان