زمین کے علاوہ کائنات میں زندگی کی تلاش میں سائنسدانوں کی نظریں طویل عرصے سے زحل کے برفیلے چاند اینسیلاڈس پر مرکوز ہیں۔ اب ایک نئی سائنسی دریافت نے اس امید کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اینسیلاڈس کی موٹی برفانی سطح کے نیچے موجود سمندر میں پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز پائے گئے ہیں، جو زندگی کے آغاز کے لیے بنیادی عناصر سمجھے جاتے ہیں۔
یہ انکشاف ناسا کے کیسینی اسپیس کرافٹ کے جمع کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ کیسینی نے 2004 سے 2017 تک زحل اور اس کے چاندوں کا تفصیلی مشاہدہ کیا تھا۔
اس مشن کے دوران اینسیلاڈس سے نکلنے والے برفیلے ذرات کا تجزیہ کیا گیا، جو دراصل سطح کے نیچے موجود سمندر سے نکل کر خلا میں پہنچتے ہیں۔ انہی ذرات میں ایسے نامیاتی مرکبات دریافت ہوئے جو اس سے قبل کبھی ریکارڈ نہیں کیے گئے تھے۔
زندگی کے لیے اہم کیمیائی اجزا دریافت
ناسا کے مطابق دریافت ہونے والے نئے مرکبات میں الیفیٹک ، سائیکلک ایسٹر اور ایتھر فیملی شامل ہیں، جن میں سے کچھ کے مالیکیولی ڈھانچوں میں ڈبل بانڈز بھی موجود ہیں۔
یہ مرکبات جب نائٹروجن، آکسیجن اور ایرو میٹک عناصر کے ساتھ ملتے ہیں تو زندگی کے بنیادی ڈھانچے تشکیل دے سکتے ہیں۔
جرمنی کی فریئی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محققین کے سربراہ ناضر خواجہ کے مطابق ماضی میں جو نامیاتی مادے دریافت ہوئے تھے وہ بہت پرانے تھے اور ممکنہ طور پر شدید خلائی تابکاری سے متاثر ہو چکے تھے۔
لیکن حالیہ دریافت ہونے والے مرکبات نسبتاً نئے اور تازہ ہیں، اور یہ براہِ راست اس سمندر سے آئے ہیں جو اینسیلاڈس کی سطح کے نیچے موجود ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہاں آج بھی کیمیائی سرگرمی جاری ہے۔
زندگی کے لیے سازگار ماحول کے اشارے
سائنسدان پہلے ہی جانتے تھے کہ اینسیلاڈس پرمائع پانی کا سمندر، اندرونی حرارت اور نامیاتی مالیکیولزموجود ہیں، لیکن سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ آیا یہ حالات طویل عرصے تک مستحکم رہ سکتے ہیں یا نہیں۔
اب نئی تحقیق میں اینسیلاڈس کے شمالی قطب سے حرارت کے اخراج کا پتا چلا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں زندگی کے لیے موزوں حالات طویل مدت تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
اگرچہ سائنسدانوں نے ابھی زندگی کی موجودگی کا حتمی اعلان نہیں کیا، مگر ان کا کہنا ہے کہ اینسیلاڈس ہمارے نظامِ شمسی میں زندگی کی تلاش کے لیے سب سے مضبوط امیدواروں میں سے ایک ہے۔











