چین میں ایک انجینئر کو دورانِ ملازمت بار بار اور طویل وقت تک باتھ روم جانے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا گیا، جس پر اس نے اپنی کمپنی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا، تاہم عدالت نے کمپنی کے فیصلے کو درست قرار دے دیا۔
غیر ملکی نیوز ویب سائیٹ کے مطابق چین کے صوبے جیانگسو صوبے میں ایک نجی کمپنی میں کام کرنے والا انجینئر، جس کا خاندانی نام لی بتایا گیا ہے، گزشتہ دس سال سے زائد عرصے سے ملازمت کر رہا تھا۔ کمپنی نے اپریل اور مئی 2024 کے دوران 30 دن میں لی کے 14 غیر معمولی طور پر طویل باتھ روم بریکس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا، جن میں ایک بریک چار گھنٹے تک جاری رہی۔
کمپنی کے وکلاء نے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش کی اور بتایا کہ انتظامیہ نے چیٹ ایپ کے ذریعے لی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا، حالانکہ اس کی نوکری کا تقاضا تھا کہ وہ کام کے اوقات میں ہر وقت دستیاب رہے۔
دوسری جانب، انجینئر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ بواسیر (ہیمورائیڈز) کے مرض میں مبتلا تھا۔ اس نے عدالت میں علاج سے متعلق ادویات کی آن لائن خریداری کے شواہد اور جنوری 2025 کی سرجری کا ریکارڈ بھی پیش کیا۔ لی نے دعویٰ کیا کہ اس کی طویل غیر حاضریاں طبی بنیادوں پر تھیں اور اس نے نوکری ختم کرنے پر 3 لاکھ 20 ہزار یوآن ہرجانے کا مطالبہ کیا۔
تاہم عدالت نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ کام کے اوقات میں باتھ روم میں گزارا گیا وقت جسمانی ضرورت سے کہیں زیادہ تھا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ لی نے نہ تو کمپنی کو اپنی بیماری سے آگاہ کیا اور نہ ہی معاہدے کے مطابق میڈیکل رخصت حاصل کی۔
عدالت کے مطابق کمپنی نے لی کو برطرف کرنے سے قبل لیبر یونین سے اجازت بھی حاصل کی تھی، جو قانونی تقاضا تھا۔
دو عدالتی سماعتوں کے بعد دونوں فریقین کے درمیان تصفیہ ہو گیا، جس کے تحت کمپنی نے لی کو اس کی سابقہ خدمات اور بے روزگاری کے باعث مالی مشکلات کے پیشِ نظر 30 ہزار یوآن بطور معاوضہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔











