فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے تصدیق کی ہے کہ اس کے سابق ترجمان، جنہیں دنیا ابو عبیدہ کے نام سے جانتی تھی، شہید ہو گئے ہیں۔ تنظیم کے نئے ترجمان نے، جنہوں نے بھی اپنی کنیت ابو عبیدہ اختیار کی ہے، بتایا کہ سابق ترجمان کا اصل نام حذیفہ الکحلوت تھا اور وہ ابو ابراہیم کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے 31 اگست 2025 کو اعلان کیا تھا کہ غزہ میں کارروائی کے دوران القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوجی قیادت کا کہنا تھا کہ حماس کے دیگر رہنماؤں، خواہ وہ غزہ میں ہوں یا بیرونِ ملک، کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
القسام بریگیڈز کے نئے ترجمان کے مطابق حالیہ جنگ میں حماس کے کئی اعلیٰ عسکری کمانڈر بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں محمد السنوار، محمد شبانہ، حکم العیسیٰ، رائد سعد اور سابق ترجمان ابو عبیدہ شامل ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ القسام بریگیڈز کسی صورت اپنا اسلحہ نہیں چھوڑے گی اور کہا کہ اصل ضرورت اسلحہ فلسطینیوں سے نہیں بلکہ قابض قوت سے چھیننے کی ہے۔
انہوں نے عالمی ثالثوں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد کا پابند بنائیں۔
ایک علامتی شخصیت
ابو عبیدہ اسرائیل-غزہ جنگ کے دوران حماس کی نمایاں اور علامتی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ہمیشہ سرخ فلسطینی کوفیہ میں چہرہ ڈھانپ کر ویڈیو پیغامات جاری کرتے تھے، جن میں قرآن مجید کی آیات کے سائے میں عسکری صورتحال پر بات کی جاتی تھی۔ ان کی تقاریر زیادہ تر ٹیلیگرام کے ذریعے نشر کی جاتیں، جہاں وہ برسوں سے سرگرم تھے۔
انہوں نے دیانت، امانت اور قیادت کی علامت سمجھے جاتے والے صحابی رسول ﷺ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کی نسبت سے کنیت اختیار کی تھی۔ سات اکتوبر 2023 کے حملے جسے حماس نے ’آپریشن طوفان الاقصیٰ‘ کا نام دیا، کے بعد ابو عبیدہ عالمی میڈیا میں ایک معروف نام بن گئے۔
ابو عبیدہ طویل عرصے سے القسام بریگیڈز سے وابستہ تھے اور ہمیشہ اپنی شناخت کو خفیہ رکھا۔ ان کی ویڈیو تقاریر نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ عالمی نیوز چینلز پر بھی زیرِ بحث رہیں۔
ابو عبیدہ کی شہادت کو فلسطینی مزاحمت کے ایک اہم باب کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم حماس کا کہنا ہے کہ جدوجہد افراد سے نہیں بلکہ نظریے سے چلتی ہے، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔











