اہم ترین

شام سےافغانستان منتقل ہونےوالےدہشت گردوں میں کوئی پاکستانی نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، اور ریاست پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران دہشت گردی کے واقعات کا جامع احاطہ کیا جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ برس انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 659 اور بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشنز شامل ہیں۔ روزانہ اوسطاً 206 آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران 5 ہزار 397 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 1235 اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں تھے اور دو خودکش حملے خواتین نے کیے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد خوارج ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل رہی، جبکہ سب سے زیادہ واقعات بھی اسی صوبے میں پیش آئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ افغانستان دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے، جہاں سے القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی تنظیمیں آپریٹ کر رہی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شام سے ڈھائی ہزار دہشت گرد افغانستان منتقل ہو چکے ہیں اور گرفتار دہشت گردوں نے افغانستان میں تربیت حاصل کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ اور فنڈز فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا چھوڑا گیا جدید اسلحہ بھی دہشت گردی میں استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

ترجمان پاک فوج نے جعفر ایکسپریس، نوشکی بس واقعہ اور کیڈٹ کالج وانا پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، مگر افغانستان سے آنے والا ہر دہشت گرد مارا جاتا ہے۔ انہوں نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ فوج کی نہیں، پوری قوم کی جنگ ہے۔

پاکستان