اہم ترین

سوئٹزرلینڈ نے امریکا میں زیر حراست وینیزویلین صدر مادورو کے اثاثے منجمد کر دیے

سوئٹزرلینڈ نے امریکی زیرِ حراست وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کے قریبی افراد کے ملک میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے ہیں تاکہ اگر یہ اثاثے وینزویلا کے عوام سے ناجائز طور پر حاصل کیے گئے ہیں تو انہیں واپس لوٹایا جا سکے۔

سوئس فیڈرل کونسل کے بیان کے مطابق یہ اقدام فوری طور پر نافذ العمل ہوا اور موجودہ وینزویلا حکومت کے ارکان پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ منجمد کرنے کا مقصد اثاثوں کو ملک سے باہر جانے سے روکنا ہے اور آئندہ قانونی کارروائیوں میں یہ اثاثے وینزویلا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال ہوں گے۔

مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو امریکا کی فوج نے وینیزویلا کے دارالحکومت کراکس میں کارروائی کرکے حراست میں لیا تھا۔ ام پر امریکا میں منشیات اسمگلنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

سوئٹزرلینڈ نے امریکا کی فوجی کارروائی کے بعد کشیدگی کم کرنے، ضبطِ نفس اختیار کرنے اور بین الاقوامی قانون کی پابندی کی اپیل کی ہے اور صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔

اثاثے منجمد کرنے کا اقدام 2018 میں وینزویلا کے خلاف نافذ کیے گئے ایمبارگو ایکٹ کی پابندیوں کے علاوہ ہے اور اس میں 37 ایسے افراد شامل ہیں جو پہلے پابندیوں کی فہرست میں نہیں تھے، جن میں مادورو کی اہلیہ اور دیگر رشتہ دار بھی شامل ہیں۔

فیڈرل کونسل کا کہنا ہے کہ مادورو کے اقتدار سے گرنے کی قانونی حیثیت اثاثہ منجمد کرنے کے فیصلے میں اہم نہیں، بلکہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ اب امکان ہے کہ آئندہ قانونی کارروائی کے دوران ناجائز اثاثوں کو واپس حاصل کیا جا سکے۔ یہ پابندی چار سال تک برقرار رہے گی۔

پاکستان