اہم ترین

آئی ایم ایف کی شرط پر شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کا جامع پلان تیار

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط پوری کرنے کا امکان ہے، جس کے تحت شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ وزیر اعظم کو پیش کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے لیے قائم وزارتی کمیٹی نے اس شعبے کو مکمل مسابقت کے لیے کھولنے کی تجویز دی ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس پالیسی کے تحت کسانوں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو گی اور کسی زون یا مخصوص اقسام کی کوئی پابندی نہیں ہو گی۔

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کسان کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا اپنی مرضی سے گڑ بنانے کے بھی مجاز ہوں گے۔ گنے کی قیمت کا تعین مارکیٹ فورسز کریں گی جبکہ گنے کے لیے سرکاری کم از کم قیمت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

منصوبے کے مطابق شوگر ملز کو خام مال درآمد کر کے چینی بنانے کی اجازت ہو گی جبکہ حکومت چینی کی برآمد پر کسی قسم کی سبسڈی فراہم نہیں کرے گی۔ اسی طرح ملک میں نئی شوگر ملز لگانے پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

دستاویزات کے مطابق شوگر ملز کو خام چینی درآمد کر کے ریفائن کرنے اور ری ایکسپورٹ کی اجازت دی جائے گی، جبکہ چینی کی درآمد و برآمد پر عائد پابندیاں بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ چینی کی قیمت پر حکومتی کنٹرول ختم کر کے قیمتوں کا تعین بھی مارکیٹ کے سپرد کر دیا جائے گا۔

کسانوں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ ممنوعہ گنے کی اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کی جائے، تاکہ غیر موزوں اقسام کی کاشت سے اجتناب کیا جا سکے۔

پاکستان