اہم ترین

یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی پر ماحولیاتی اقدامات تیز کرنے کا دباؤ

یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کی رفتار سال 2025 میں نمایاں طور پر سست ہو گئی ہے، جبکہ شمالی سمندر (نارتھ سی) نے اپنی تاریخ کا سب سے گرم سال ریکارڈ کیا، جس کے بعد حکومت پر ماحولیاتی اقدامات تیز کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ماحولیاتی تھنک ٹینک اگورا اینرجی وینڈے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں 2025 کے دوران گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں صرف 1.5 فیصد کمی ہوئی، جو 2024 میں تین فیصد اور اس سے پچھلے سال دس فیصد کمی کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔

ادارے کی جرمنی ڈائریکٹر جولیا بلیزیئس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو جرمنی 2030 تک 1990 کے مقابلے میں اخراج میں 65 فیصد کمی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “جرمنی ماحولیاتی تحفظ میں پیچھے جا رہا ہے، اگرچہ ہدف اب بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن اس میں بڑی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔”

صورتحال کو مزید تشویشناک بناتے ہوئے جرمنی کے سرکاری بحری ادارے بی ایس ایچ نے بتایا کہ نارتھ سی کا اوسط درجہ حرارت 11.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو 1969 سے اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔

ادھر قدامت پسند چانسلر فریڈرک مرز کی حکومت کو پہلے ہی ماحولیاتی پالیسیوں پر تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومت کے حالیہ فیصلے ماحولیاتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، تاہم مرز کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات کمزور معیشت کو سہارا دینے کے لیے ضروری ہیں۔

مرز نے یورپی یونین کی جانب سے 2035 کے بعد پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر پابندی کی مخالفت کی، جبکہ ان کی اتحادی حکومت نے نئے گھروں میں قابلِ تجدید توانائی پر مبنی ہیٹنگ سسٹم لازمی بنانے کا قانون بھی ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیرِ معیشت نے بعض سولر سبسڈیز ختم کرنے اور نئے گیس پاور پلانٹس لگانے کی تجویز بھی دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں توانائی کے شعبے میں کچھ مثبت پیش رفت بھی ہوئی، جیسے شمسی توانائی کی ریکارڈ پیداوار اور تقریباً تین لاکھ ہیٹ پمپس کی فروخت، جو پہلی بار گیس بوائلرز سے زیادہ رہی۔ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت بھی بہتر ہوئی اور نئی گاڑیوں میں ان کا حصہ تقریباً 20 فیصد تک پہنچ گیا۔

اس کے باوجود رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ اور عمارتوں سے اخراج میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، جو الیکٹرک گاڑیوں اور ہیٹ پمپس کے فروغ میں برسوں کی سست رفتاری کا نتیجہ ہے۔

جولیا بلیزیئس کے مطابق ، ہمیں اب مزید تیزی کی ضرورت ہے۔ انجن والی گاڑیوں پر پابندی جیسے مباحث نہ کاروبار کے لیے فائدہ مند ہیں اور نہ ہی صارفین کے لیے۔

واضح رہے کہ جرمنی کا مجموعی اخراج 2025 میں 640 ملین ٹن رہا، جو 1990 کے مقابلے میں اب تک 49 فیصد کم ہو چکا ہے، جبکہ ملک نے 2045 تک مکمل ماحولیاتی غیر جانبداری کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

پاکستان