اہم ترین

ایران میں موساد کے ایک اور جاسوس کو پھانسی

ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزا یافتہ ایک شخص کو پھانسی دے دی۔ علی اردستانی پر الزام تھا کہ وہ موساد کو حساس معلومات فراہم کرتا رہا اور اس کے عوض کرپٹو کرنسی کی صورت میں رقم وصول کرتا تھا۔

ایرانی عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان کے مطابق علی اردستانی نے اسرائیلی ایجنسی کو اہم مقامات کی تصاویر، ویڈیوز اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری تھی۔

یہ پھانسی ایران اور اسرائیل کے درمیان جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے دوران ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ کئی اعلیٰ فوجی اور سیکیورٹی عہدیدار ہدفی حملوں میں مارے گئے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے اسرائیلی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے کہا کہ علی اردستانی کو سزا دیگر کئی پھانسیوں کی طرح غیرمنصفانہ ٹرائل اور جبری اعترافات پر مبنی تھی، اس لیے اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

ان کے مطابق جون میں جنگ کے آغاز کے بعد اب تک اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں 12 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ یہ حالیہ پھانسی ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران میں 28 دسمبر سے مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران میں جاسوسی جیسے الزامات کے تحت پھانسیاں دینے کا اصل مقصد عوام میں خوف پھیلانا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک بھر میں احتجاج ہو رہا ہو۔

انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق چین کے بعد ایران دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا ملک ہے۔ آئی ایچ آر کے مطابق صرف گزشتہ سال ایران میں کم از کم 1500 افراد کو پھانسی دی گئی۔

ایران نے جنگ کے بعد اعلان کیا تھا کہ اسرائیل سے مبینہ تعاون کے الزام میں گرفتار افراد کے خلاف فوری ٹرائل کیے جائیں گے۔ ایران اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور طویل عرصے سے اس پر جوہری تنصیبات میں تخریب کاری اور سائنس دانوں کے قتل کا الزام عائد کرتا آ رہا ہے۔

دوسری جانب موساد نے اپنے فارسی زبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کی زمینی سطح پر حمایت کر رہا ہے۔

تاہم حقوق انسانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات اصل غیر ملکی ایجنٹ قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں جبکہ بے گناہ افراد کو جاسوسی کے الزامات میں سزائے موت دے دی جاتی ہے۔

پاکستان