دل کی بیماری صرف شوگر، بلڈ پریشر یا سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتی، بلکہ پیسوں کی فکر اور خوراک کی کمی بھی دل کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔ یہ چونکا دینے والا انکشاف مایو کلینک کی نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
سائنسی جریدے مائیو کلینک پروسیڈنگز میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق مالی دباؤ اور غذائی عدم تحفظ (فوڈ ان سیکیورٹی) دل کی تیز رفتار بڑھتی عمر کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دل پر ان عوامل کا اثر اتنا ہی شدید ہوتا ہے جتنا شوگر، ہائی بلڈ پریشر یا ماضی میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ دل کی قبل از وقت بڑھتی عمر سے دل کی بیماری اور دل سے متعلق اموات کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
مائیو کلینک کے کارڈیو ویسکیولر ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امیر لرمین کے مطابق ہماری تحقیق اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ دل کی صحت پر سماجی عوامل کا اثر بہت گہرا ہے، جنہیں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
اس تحقیق کے لیے 2018 سے 2023 کے دوران مائیو کلینک میں علاج کروانے والے 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
ماہرین نے اے آئی سے لیس الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی) کے ذریعے ہر فرد کے دل کی اصل عمر کا موازنہ اس کی پیدائشی عمر سے کیا۔ اور پھر اس ڈیٹا کا موازنہ ایک سوالنامے سے کیا گیا، جس میں مریضوں کے سماجی حالات جیسے ذہنی دباؤ، ورزش، سماجی تعلقات، رہائش، مالی مشکلات، خوراک کی دستیابی، تعلیم اور ٹرانسپورٹ جیسی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج کے مطابق طبی عوامل کے مقابلے میں سماجی عوامل نے دل کی عمر پر زیادہ اثر ڈالا۔ خاص طور پر مالی دباؤ اور خوراک کی کمی نے دل کی تیز رفتار عمر بڑھنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ مالی پریشانی سے قبل از وقت موت کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ رہائش کا عدم استحکام 18 فیصد، ماضی میں دل کے دورے کی شرح 10 فیصد اور سگریٹ نوشی 27 فیصد خطرے کا باعث بنتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان سماجی عوامل کو بروقت پہچان لیا جائے تو دل کی بیماری سے بچاؤ کے مؤثر اقدامات ممکن ہیں اور ڈاکٹر مریضوں کو زیادہ جامع اور انسان دوست علاج فراہم کر سکتے ہیں۔











