پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینیئر شاہدہ اختر کی زیر صدارت ہوا، جس میں پاسکو کے قابلِ وصول واجبات سے متعلق آڈٹ اعتراضات پر غور کیا گیا۔
آڈٹ حکام کے مطابق آڈٹ پیرا 2013-14 سے متعلق ہے، جب 2012 تا 2014 پاسکو کے واجبات 18 ارب روپے تھے، جو 15 دسمبر 2025 تک بڑھ کر 257 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔
شاہدہ اختر نے سوال اٹھایا کہ ریکوریز کیوں نہیں ہو رہیں اور اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ ایم ڈی پاسکو نے بتایا کہ 256 ارب روپے میں سے 137 ارب روپے صوبائی حکومتوں کے ذمے ہیں، جبکہ یہ واجبات زیادہ تر گزشتہ دو سالوں کے ہیں، اس سے قبل کے کلیئر ہو چکے ہیں۔
ایم ڈی پاسکو کے مطابق اگر صوبے ادائیگی نہیں کرتے تو وفاق رقم ادا کرے گا، اور اس حوالے سے چیف سیکریٹریز سے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وفاق اور صوبوں کے بقایاجات جلد مل جائیں گے۔
ذیلی کمیٹی نے پاسکو کو دو ہفتوں میں ریکوریز پر اپڈیٹ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔











