اہم ترین

ٹک ٹاک نے پراگ لائبریری کی قسمت کھول دی: انتظامیہ کیلئے سیاح سنبھالنا مشکل

چیک جمہوریہ کا دارالحکومت پراگ اپنے شاندار طرز تعمیر اور تاریخ کی وجہ سے ہمیشہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے، لیکن اب ایک بالکل انوکھا اور غیر متوقع مقام شہر کی نئی پہچان بن گیا ہےاور اس کے پیچھے ٹک ٹاک کا بڑا ہاتھ ہے۔

اے ایف پی کے مطابق پراگ کی میونسپل لائبریری کے داخلی ہال میں نصب ہزاروں کتابوں سے بنا ایک مجسمہ نما ٹاور اچانک سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جس کے باعث روزانہ سینکڑوں سیاح صرف ایک تصویر لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

اس فن پارے کا نام آئیڈیئم ہے، جسے سلوواکیہ کے فنکار ماتیے کرین نے تخلیق کیا ہے۔ یہ تقریباً 8 ہزار پرانی کتابوں پر مشتمل ایک گول ستون ہے، جس کے اندر آنسو کی شکل کا داخلی راستہ اور دونوں سروں پر آئینے لگے ہیں۔ آئینے ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے کتابوں کی ایک لامتناہی سرنگ ہو۔

یہ مجسمہ 1998 میں لائبریری میں نصب کیا گیا تھا اور برسوں تک خاموشی سے وہیں موجود رہا، لیکن تین سال قبل ٹک ٹاک پر وائرل ہونے کے بعد اس کی قسمت ہی بدل گئی۔

سیاح پہلے کتابوں کے ٹاور کے اندر جھانک کر سیلفی لیتے ہیں، پھر دوستوں کے ساتھ تصویر بنا کر ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے ہیں۔

لائبریری کی ترجمان لینکا ہانزلکووا کے مطابق کرسمس اور ایسٹر جیسے مواقع پر روزانہ تقریباً ایک ہزار سیاح آئیڈیئم دیکھنے آتے ہیں، اور بعض اوقات انتظار دو گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ یہ سب ٹک ٹاک کے الگورتھمز کا نتیجہ ہے۔ ہمیں اب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نیا طریقہ اپنانا ہوگا کیونکہ سیاحوں کو سنبھالنا لائبریری کی روایتی خدمات سے بالکل مختلف ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض قارئین اسے عجیب و غریب جنون قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ کتابیں واپس کرنے آئے مگر سیاحوں کی قطار میں جا کھڑے ہوئے۔

انتظامیہ نے سیاحوں کے لیے لائبریری کے پانچ داخلی راستوں میں سے ایک مخصوص کر دیا ہے، جبکہ مستقبل میں داخلہ فیس لینے اور عملہ تعینات کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ ہجوم کو منظم کیا جا سکے۔

فنکار ماتیے کرین کا کہنا ہے کہ آئیڈیئم علم کی لامحدودیت کی علامت ہے۔ انہوں نے یہ فن پارہ دنیا کے کئی شہروں میں نمائش کے لیے پیش کیا تھا اور ہمیشہ مقامی مسترد شدہ کتابیں استعمال کیں۔

اگرچہ یہ مجسمہ سائنس میگزین کے سرورق اور لونلی پلانیٹ گائیڈز میں بھی شامل رہا، مگر موجودہ مقبولیت انہیں بھی حیران کر گئی۔

ماتیے کرین نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ایک سیاحتی مقام بن جائے گا۔ یہ بڑے پیمانے پر نمائش کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔

پاکستان