اہم ترین

جنسی مواد تنازع سے مسک کو دھچکا: گروک ایڈٹ امیج فیچر تک رسائی محدود کردی

ارب پتی ایلون مسک کے زیرِ انتظام اے آئی چیٹ بوٹ گروک نے شدید عوامی ردِعمل اور حکومتی دباؤ کے بعد ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے غیر ادا شدہ صارفین کے لیے تصویر بنانے اور ایڈٹ کرنے کی سہولت بند کر دی ہے۔

اے ایف پی کےمطابق گروک کی مالک کمپنی ایکس اےآئی نے یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گروک کے ذریعے خواتین اور بچوں کی نامناسب اور غیر قانونی نوعیت کی جعلی تصاویر بنائے جانے پر شدید تنقید کی جا رہی تھی، جس پر کئی ممالک نے کھل کر اعتراض اٹھایا۔

ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گروک نے صارفین کو بتایا کہ تصویر بنانے اور ایڈٹ کرنے کی سہولت فی الحال صرف ادا شدہ سبسکرائبرز کے لیے محدود ہے۔

اس فیصلے کے بعد گروک کے لاکھوں عام صارفین اب یہ فیچر استعمال نہیں کر سکیں گے، جبکہ سبسکرپشن لینے والوں کو کریڈٹ کارڈ اور ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔

یورپی کمیشن نے اس ہفتے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کی ایسی تصاویر قانوناً غیر قانونی ہیں، اور جمعرات کو ایکس کو حکم دیا کہ گروک سے متعلق تمام اندرونی دستاویزات اور ڈیٹا 2026 کے اختتام تک محفوظ رکھا جائے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہایکس کو اس معاملے پر قابو پانا ہوگا، ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے ملک کے میڈیا ریگولیٹر آف کام کو تمام ممکنہ قانونی آپشنز پر غور کرنے کی ہدایت بھی دی۔

ایلون مسک نے ایک پوسٹ کے جواب میں کہا تھا کہ جو کوئی بھی گروک کے ذریعے غیر قانونی مواد بنائے گا، اسے وہی نتائج بھگتنا ہوں گے جیسے غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے پر ہوتے ہیں۔

ایکس کے آفیشل سیفٹی اکاؤنٹ کے مطابق، غیر قانونی مواد سے نمٹنے کے لیے پلیٹ فارم مواد ہٹاتا، اکاؤنٹس مستقل معطل کرتا اور ضرورت پڑنے پر مقامی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون بھی کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی پر عالمی نگرانی اور ضابطہ کاری تیزی سے سخت ہو رہی ہے، خاص طور پر جب بات انسانی وقار اور بچوں کے تحفظ کی ہو۔

پاکستان