مصنوعی ذہانت کےمیدان میں چین کے اے آئی اسٹارٹ اپ منی میکس نے ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں شاندار آغاز کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا۔ کمپنی کے شیئرز پہلے ہی دن 109 فیصد تک بڑھ گئے جبکہ آئی پی او کے ذریعے 619 ملین امریکی ڈالر جمع کیے گئے، جو چین کے تیزی سے ترقی کرتے اے آئی شعبے میں سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کا ثبوت ہے۔
اے ایف پی کےمطابق منی میکس کی لسٹنگ کی تقریب میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو یان جونجیے اور شریک بانی و چیف آپریٹنگ آفیسر یون ییئی نے شرکت کی، جس کے فوراً بعد کمپنی کے شیئرز میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔
اسی ہفتے ایک اور چینی اے آئی کمپنی ژھیپو اے آئی کے شیئرز بھی مثبت رجحان کا شکار رہے، جو اپنی آئی پی او کے دوسرے دن 20.6 فیصد تک بڑھ گئے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی اے آئی کمپنیوں اوپن اے آئی اور انتھروپک کی جانب سے تاحال آئی پی او کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سال 2022 میں قائم ہونے والی منی میکس کے صارفین کی تعداد 20 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ کمپنی متعدد اے آئی ایپلی کیشنز چلاتی ہے، جن میں اس کا مقبول ویڈیو جنریٹر ہیلوو اے آئی بھی شامل ہے۔
کمپنی کے سی ای او یان جونجیے اس سے قبل معروف اے آئی سافٹ ویئر کمپنی سینس ٹائم میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، جو امریکی محکمۂ تجارت کی بلیک لسٹ میں شامل ہے۔
لسٹنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یان جونجیے نے کہا مصنوعی ذہانت کی ترقی صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ اس پورے عمل میں شمولیت اور کھلے پن پر بھی منحصر ہے۔آئندہ چار برسوں میں اے آئی انڈسٹری کی رفتار گزشتہ چار برسوں کے برابر رہنے کی توقع ہے۔
کمپنی کے مطابق آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم آئندہ پانچ سالہ تحقیقاتی منصوبوں میں استعمال کی جائے گی، جن میں بنیادی ماڈلز اور اے آئی نیٹو مصنوعات کی تیاری شامل ہے۔
اگرچہ منی میکس کی عالمی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو 2024 میں ایک لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 78 لاکھ ڈالر تک جا پہنچی — تاہم کمپنی کو ستمبر 2025 تک 512 ملین ڈالر کے خسارے کا سامنا رہا۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ توسیعی منصوبوں اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے باعث آنے والے عرصے میں بھی نقصانات کا امکان موجود ہے۔
منی میکس کو ڈزنی، یونیورسل اور وارنر برادرز ڈسکوری کی جانب سے 75 ملین ڈالر کے کاپی رائٹ مقدمے کا بھی سامنا ہے، جس پر کمپنی نے الزامات کی تردید کی ہے۔
ماہرین کے مطابق منی میکس اور ژھیپو اے آئی جیسے چینی اے آئی ٹائیگرز کے لیے فوری منافع کا امکان کم ہے، تاہم سرمایہ کار مستقبل کی مارکیٹ قیادت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق چین میں لارج لینگویج ماڈلز کی مارکیٹ 2030 تک 101 ارب یوآن تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اے آئی ٹیکنالوجی اسی مدت تک 19.9 ٹریلین ڈالر کا معاشی کردار ادا کرے گی۔











