اہم ترین

انسٹاگرام کے 1 کروڑ 75 لاکھ صارفین کا ڈیٹا لیک

معروف بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی ویب سائٹ مالویئر بائیٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک کروڑ 75 لاکھ (17.5 ملین) انسٹاگرام صارفین کا ذاتی ڈیٹا لیک ہو گیا ہے، جس سے صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا 7 جنوری 2026 کو ہیکنگ فورم بریچ فورم پر شیئر کیا گیا، جس کے بعد یہ دیگر سائبر مجرموں کے لیے بھی دستیاب ہو گیا۔ مالوئیر بائیٹس نے اس ڈیٹا لیک کو سولونک نامی ہیکر سے منسوب کیا ہے۔

لیک ہونے والے ڈیٹا میں انسٹاگرام صارفین کے یوزر نیم، مکمل نام، ای میل ایڈریس، بین الاقوامی فون نمبرز، جزوی فزیکل ایڈریس، یوزر آئی ڈی اور دیگر رابطہ معلومات شامل ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق صارفین کے پاس ورڈز اس ڈیٹا لیک کا حصہ نہیں ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اگرچہ پاس ورڈز لیک نہیں ہوئے، مگر دستیاب معلومات کو فشنگ حملوں، جعلی پیغامات، اکاؤنٹ ہائی جیکنگ اور آن لائن فراڈ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مالوئیر بائیٹس کا کہنا ہے کہ انہیں یہ ڈیٹا لیک معمول کی ڈارک ویب مانیٹرنگ کے دوران سامنے آیا، جہاں بڑی جے ایس او این اور ٹیکسٹ فائلز میں صارفین کا ڈیٹا موجود تھا، جو ممکنہ طور پر انسٹاگرام اے پی آئی سے متعلق ہے۔

میٹا کی جانب سے اس ڈیٹا لیک کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

پاکستان