ارجنٹائن کے جنوبی علاقے پیٹاگونیا میں شدید جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی ہے، جہاں صرف ایک ہفتے کے دوران 15 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر راکھ ہو گیا۔ حکام کے مطابق آگ اگرچہ اب بھی خطرناک ہے، تاہم اتوار کے روز بعض علاقوں میں بارش نے متاثرہ شہریوں کو عارضی ریلیف فراہم کیا ہے۔
سب سے بڑی آگ اینڈیز کے پہاڑی علاقے میں واقع قصبے ایپویَن کے قریب لگی، جس نے اب تک تقریباً 11 ہزار 980 ہیکٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ لاس الیروس نیشنل پارک میں بھی ایک اور آگ مسلسل پھیل رہی ہے۔
چوبوت اور ہمسایہ صوبے سانتا کروز میں مزید دو مقامات پر لگنے والی آگ سے تقریباً 3 ہزار 800 ہیکٹر زمین متاثر ہوئی ہے۔ آگ بجھانے کے لیے 500 سے زائد فائر فائٹرز، ریسکیو اہلکار، پولیس اور رضاکار دن رات مصروف ہیں، جب کہ مقامی لوگ بھی فرنٹ لائن پر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
اتوار کو ہونے والی بارش پر متاثرہ علاقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی رہائشی اَٹیلا میسورا کا کہنا تھا کہ ’’ہم بہت خوش ہیں، امید ہے موسم ایسا ہی رہے۔‘‘
چوبوت کے گورنر اگناسیو ٹوریس نے صورتحال کو اب بھی ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ 1965 کے بعد بدترین خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ان آگوں کی بڑی وجہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس کے اثرات کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آگ بجھانے کے دوران ایک رضاکار فائر فائٹر شدید جھلسنے کے باعث آئی سی یو میں زیرِ علاج ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 3 ہزار سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جب کہ کم از کم 10 گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں بھی پیٹاگونیا میں 32 ہزار ہیکٹر سے زائد جنگلات آگ کی نذر ہو گئے تھے۔











