اہم ترین

ایران میں احتجاج کے دوران سیکڑوں مبینہ ہلاکتیں، امریکا ایران سفارتی کشیدگی

ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور انٹرنیٹ کی طویل بندش کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی قیادت مذاکرات کی خواہاں ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انسانی حقوق کی تنظیمیں ایران میں سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کر چکی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ ایران کی قیادت نے ان سے رابطہ کر کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ فوجی مداخلت پر غور کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق “ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے، مگر ہمیں مذاکرات سے پہلے بھی کوئی قدم اٹھانا پڑ سکتا ہے۔”

دوسری جانب ناروے میں قائم غیر سرکاری تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے تصدیق کی ہے کہ اب تک کم از کم 192 مظاہرین جاں بحق ہو چکے ہیں، تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ اصل تعداد دو ہزار سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اسی طرح امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 544 تک پہنچ چکی ہے، جن میں 496 مظاہرین اور 48 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

ایران میں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کو 84 گھنٹے سے زائد ہو چکے ہیں۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق یہ بلیک آؤٹ ملکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤنز میں سے ایک ہے، تاہم کچھ علاقوں میں سیٹلائٹ فون، اسٹارلنک اور سرحدی موبائل نیٹ ورکس کے ذریعے محدود رابطہ ممکن ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی تصادم کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے بھی آمادہ ہے، بشرطیکہ وہ برابری، انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوں۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کو جان بوجھ کر پرتشدد بنایا گیا تاکہ امریکی مداخلت کا جواز پیدا کیا جا سکے۔

دوسری جانب چین نے ایران کے معاملے میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام پر زور دیا ہے، جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو ایرانی حکومت کی کمزوری کی علامت قرار دیا ہے۔

کینیڈا نے بھی ایرانی مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حکومتِ ایران سے انسانی حقوق کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر ایران کے معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمہوری انتقالِ اقتدار کی قیادت کے لیے ایران واپس آنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے ایرانی سیکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ عوام کا ساتھ دیں۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس دوران تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی رابطے بدستور موجود ہیں، جن میں سوئٹزرلینڈ جیسے ثالثی ذرائع بھی شامل ہیں، تاہم متضاد امریکی پیغامات صورتحال کو مبہم بنا رہے ہیں۔

ایران میں بڑھتی ہوئی ہلاکتیں، عالمی دباؤ اور سفارتی کشیدگی نے خطے کی صورتحال کو نہایت نازک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جبکہ مظاہرین کے عزم میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

پاکستان