بگ بیش لیگ کے 33ویں میچ میں میلبورن رینیگیڈز اور سڈنی تھنڈرز آمنے سامنے تھے جہاں میلبورن کی ٹیم پہلے بیٹنگ کر رہی تھی۔ اس میچ میں پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو ایک غیر معمولی فیصلے کے تحت ریٹائرڈ آؤٹ کر دیا گیا، جس پر کرکٹ حلقوں میں خاصی بحث دیکھنے میں آئی۔
محمد رضوان نے چوتھے نمبر پر بیٹنگ کا آغاز کیا اور 23 گیندوں پر 26 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں دو چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، تاہم ان کا اسٹرائیک ریٹ 113 رہا جو ان کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کیریئر کے اوسط اسٹرائیک ریٹ (تقریباً 125) سے کم تھا۔
یہ بگ بیش لیگ کے موجودہ سیزن میں رضوان کا چھٹا میچ تھا۔ اس سے قبل ان کی سب سے بڑی اننگز میلبورن اسٹارز کے خلاف 41 رنز رہی تھی جو انہوں نے 38 گیندوں پر بنائے تھے۔
انیسویں اوور کے آغاز سے قبل میلبورن رینیگیڈز کے کپتان ول سدرلینڈ نے باؤنڈری سے رضوان کو واپس آنے کا اشارہ کیا اور انہیں ریٹائرڈ آؤٹ کر دیا۔ رضوان کے بعد خود سدرلینڈ بیٹنگ کے لیے آئے مگر وہ صرف ایک رن بنانے کے بعد رن آؤٹ ہو گئے۔
ٹیم کی جانب سے رضوان کو ریٹائرڈ آؤٹ کرنے کی باضابطہ وجہ تو سامنے نہیں آئی، تاہم اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ رن ریٹ تیز کرنے اور آخری اوورز میں زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کی حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا۔ کمنٹیٹرز نے بھی اس فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم شاید ایک دو اوور پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا۔
رضوان کے بعد میلبورن رینیگیڈز نے آخری دو اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 16 رنز بنائے اور سڈنی تھنڈرز کو 171 رنز کا ہدف دیا۔
کرکٹ تجزیہ کار مظہر ارشد کے مطابق محمد رضوان پاکستان سے تعلق رکھنے والے پہلے بلے باز بن گئے ہیں جنہیں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں باقاعدہ حکمتِ عملی کے تحت ریٹائرڈ آؤٹ کیا گیا۔
محمد رضوان حالیہ عرصے میں پاکستانی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے ڈراپ کیے جا چکے ہیں اور اس وقت سری لنکا میں جاری سیریز کے بجائے بگ بیش لیگ میں کھیل رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کرکٹ قوانین میں ریٹائرڈ آؤٹ اور ریٹائرنگ ہرٹ دو الگ اصطلاحات ہیں۔ ریٹائرنگ ہرٹ عام طور پر چوٹ یا بیماری کے باعث ہوتا ہے، جس میں بلے باز کو دوبارہ بیٹنگ کی اجازت ہوتی ہے۔ جبکہ ریٹائرڈ آؤٹ میں بلے باز صرف اسی صورت واپس آ سکتا ہے جب مخالف ٹیم کا کپتان اجازت دے، اور یہ فیصلہ عموماً ٹیم کے مفاد میں حکمتِ عملی کے طور پر کیا جاتا ہے۔











