اہم ترین

ایران میں حالیہ ہنگاموں میں امریکا،اسرائیل نے ہزاروں افراد کا قتل کرایا: علی خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حکومت مخالف احتجاج کے دوران امریکا اور اسرائیل سے منسلک عناصر نے ہزاروں افراد کو ہلاک کیا اور ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق یہ بدامنی محض عوامی احتجاج نہیں بلکہ ایک منظم بین الاقوامی سازش تھی۔

سرکاری میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس بار امریکا کی مداخلت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ پہلی مرتبہ امریکی صدر خود اس سازش کا مرکزی کردار بن کر سامنے آئے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، تاہم ملکی یا بین الاقوامی سطح پر مجرم عناصر کو سزا سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

الجزیرہ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت نے ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی ہے۔ اس سے قبل ایرانی حکام سیکڑوں ہلاکتوں کا اعتراف کرتے رہے تھے، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

امریکی انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

ایرانی حکام کے مطابق مظاہروں کے دوران 3 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مظاہرین پر الزام ہے کہ انہوں نے 250 سے زائد مساجد اور طبی مراکز کو نذرِ آتش کیا۔

حکومتی مؤقف کے مطابق احتجاج کا آغاز مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف پُرامن انداز میں ہوا، تاہم بعد میں اسے بیرونی طاقتوں کی مدد سے پُرتشدد رخ دے دیا گیا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کو بیرونِ ملک سے مالی امداد، تربیت اور ہدایات دی گئیں۔

دوسری جانب ایران میں آٹھ روزہ انٹرنیٹ بندش کے بعد شارٹ میسج سروس (ایس ایم ایس) مرحلہ وار بحال کر دی گئی ہے۔

پاکستان