اہم ترین

بنگلا دیش کا بھارت میں ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت سے صاف انکار

بنگلا دیش نے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے کے لیے دباؤ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی زبردستی یا غیر منطقی دباؤ کے تحت اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرے گا۔ اس صورتحال کے باعث آئندہ ماہ شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے میچز بھارت کے بجائے شریک میزبان سری لنکا میں منتقل کیے جائیں۔ تاہم آئی سی سی کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ مقررہ وقت تک بھارت میں کھیلنے پر آمادہ نہ ہوا تو اسے ٹورنامنٹ سے باہر کیا جا سکتا ہے، تاہم ڈھاکا کی عبوری حکومت نے اس دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔

بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے مشیر برائے امورِ نوجوانان و کھیل کا کہنا ہے کہ میچز کی منتقلی کی درخواست ٹھوس اور منطقی بنیادوں پر کی گئی ہے اور بنگلہ دیش کسی غیر معقول دباؤ کے تحت بھارت جانے پر مجبور نہیں ہوگا۔

دوسری جانب بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے کپتان نے بھی صورتحال پر غیر یقینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت نہ ٹیم کو اور نہ ہی عوام کو معلوم ہے کہ بنگلہ دیش ورلڈ کپ میں حصہ لے پائے گا یا نہیں۔

سری لنکا کو تاحال باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کے میچز کی میزبانی کے لیے نہیں کہا گیا۔ ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ اگر بنگلہ دیش نے دستبرداری اختیار کی تو اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو ڈراپ کرنے کی ہدایت دی، جس پر ڈھاکا میں شدید ردعمل سامنے آیا اور بھارت کے دورے سے انکار کی فضا بنی۔

ورلڈ کپ کے دوران بنگلا دیش میں اہم عام انتخابات بھی ہونے جا رہے ہیں جو 2024 کی عوامی تحریک کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے۔ اس سیاسی پس منظر میں بھارت بنگلا دیش تعلقات مزید کشیدہ ہوچکے ہیں، جس کا اثر اب کرکٹ پر بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔

پاکستان