اہم ترین

چینی اور عالمی اے آئی انڈسٹری کے لیے 2026 فیصلہ کن سال قرار

چین کی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بلند سطح پر پہنچ چکا ہے اور حالیہ دنوں میں کئی بڑی اے آئی کمپنیوں نے ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں شاندار آغاز کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ان کمپنیوں کو طویل مدت میں منافع، امریکی پابندیوں اور بڑھتی لاگت جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔

اس ماہ چین کی دو نمایاں اے آئی کمپنیاں ژیپو اے آئی اور منی میکس ہانگ کانگ اسٹاک مارکیٹ میں فہرست ہوئیں، جس کے بعد ان کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ کمپنیاں چین میں ابھرتے ہوئے اے آئی اداروں کی اس لہر کا حصہ ہیں جنہیں کم لاگت اور طاقتور ماڈلز تیار کرنے والی کمپنی ڈیپ سیک کی کامیابی سے تقویت ملی۔

تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ چین نے اوپن سورس اے آئی ماڈلز میں قابلِ ذکر ترقی کی ہے، مگر امریکا کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کا فرق کم ہونے کے بجائے بڑھنے کا امکان موجود ہے۔ چین کی بیشتر اے آئی کمپنیاں مفت اور کھلے سسٹمز پر انحصار کر رہی ہیں، جس سے صارفین تو تیزی سے بڑھتے ہیں لیکن آمدن محدود رہتی ہے۔

دوسری طرف عالمی سیاسی کشیدگی بھی چینی اے آئی انڈسٹری کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ امریکی پابندیوں کے باعث چین کو جدید اور توانائی بچانے والے اے آئی چپس اور جدید چپ سازی کے آلات تک رسائی حاصل نہیں، جس سے کمپیوٹنگ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق مقامی چپس کے استعمال سے چینی اے آئی کمپنیوں کو اپنے ماڈلز کی تربیت کے لیے دو سے چار گنا زیادہ کمپیوٹنگ پاور درکار ہوتی ہے، جس سے لاگت بڑھ جاتی ہے اور منافع حاصل کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

ژیپو اے آئی اور منی میکس دونوں کو آمدن کے مقابلے میں بڑھتے خسارے کا سامنا ہے کیونکہ نئے اے آئی ماڈلز کی تیاری اور تربیت پر بھاری سرمایہ خرچ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں اس وقت پائیدار آمدن پیدا کرنے سے زیادہ سرمایہ خرچ کر رہی ہیں۔

ماہرین 2026 کو عالمی اے آئی انڈسٹری کے لیے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا کمپنیاں صرف ٹیکنالوجی بنانے سے آگے بڑھ کر حقیقی کاروباری فائدہ حاصل کر پائیں گی یا نہیں۔

تاہم چین میں صنعتی شعبوں جیسے مالیات اور صحت میں اے آئی کے استعمال کے نئے مواقع سامنے آ رہے ہیں۔ بعض کمپنیوں کا کہنا ہے کہ صارفین میں ادائیگی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اے آئی مصنوعات کے ساتھ وابستگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جو مستقبل میں منافع کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

چینی حکومت بھی اے آئی کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر سبسڈیز فراہم کر رہی ہے اور حال ہی میں اعلان کیا گیا ہے کہ 2027 تک مینوفیکچرنگ سیکٹر میں متعدد بڑے اے آئی ماڈلز متعارف کرائے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹنگ پاور کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے کے منصوبے بھی زیر عمل ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ چین مصنوعی ذہانت کو حقیقی معیشت کا محرک بنانا چاہتا ہے اور خود کو دنیا کی اے آئی سے چلنے والی فیکٹری کے طور پر منوانے کے لیے پرعزم ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین میں انجینئرنگ ٹیلنٹ کی بڑی تعداد، کم بجلی لاگت اور وسیع صنعتی بنیاد اسے عالمی اے آئی دوڑ میں مضبوط بناتی ہے، جس کے باعث وہ مستقبل میں امریکا کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت اور استحکام دکھا سکتا ہے۔

پاکستان