جدید دور کی زندگی کی اگر کوئی ایک پہچان ہے تو وہ پلاسٹک ہے۔
پیدائش کے فوراً بعد نومولود کے جسم سے لے کر ہماری سانسوں کی ہوا، زمین کی مٹی، کھانے پینے کی پیکجنگ اور سمندروں تک پلاسٹک ہر جگہ موجود ہے۔ مگر ماحولیاتی ماہر جوڈتھ اینک کہتی ہیں کہ ایسا ہمیشہ نہیں تھا، اور نہ ہی ایسا رہنا ضروری ہے۔
اپنی نئی کتاب دی پرابلم ود پکاسٹکس میں اینک دلیل دیتی ہیں کہ پلاسٹک کے بے تحاشا استعمال کو اب بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں جتنا پلاسٹک کبھی بنایا گیا، اس کا نصف 2007 کے بعد تیار ہوا—یعنی اس دور میں جب اسمارٹ فونز اور جدید ٹیکنالوجی نے رفتار پکڑی۔
پلاسٹک ری سائیکلنگ کا افسانہ
اینک اپنی کتاب میں پلاسٹک کی تاریخ بیان کرتی ہیں کہ 1909 میں بیکیلائٹ کی ایجاد سے لے کر بیسویں صدی کے وسط میں صنعت کی جانب سے پھیلائے گئے ری سائیکلنگ کے افسانے تک۔ ان کے مطابق پلاسٹک کے بحران کی ذمہ داری چالاکی سے صارفین پر ڈال دی گئی، جبکہ پیداوار مسلسل بڑھتی رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا میں صرف 5 سے 6 فیصد پلاسٹک ہی ری سائیکل ہو پاتا ہے۔ وجہ یہ کہ عام استعمال کے پلاسٹک ہزاروں اقسام کے پولیمرز پر مشتمل ہوتے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر ری سائیکلنگ معاشی طور پر ممکن نہیں رہتی۔
کیمیکل ری سائیکلنگ بھی حل نہیں
صنعت کی جانب سے پیش کی جانے والی کیمیکل ری سائیکلنگ کو بھی اینک ایک جھوٹا حل قرار دیتی ہیں۔ ان کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ایسی صرف 11 تنصیبات ہیں جو محض ایک فیصد پلاسٹک ویسٹ کو سنبھالتی ہیں، جن میں سے تین بند بھی ہو چکی ہیں۔
سمندر، صحت اور ماحولیاتی انصاف
ہر سال تقریباً 33 ارب پاؤنڈ پلاسٹک سمندروں میں جا گرتا ہےیعنی ہر منٹ دو بڑے کچرا بردار ٹرک کے برابر۔ مائیکرو پلاسٹکس اور نینو پلاسٹکس سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور خوراک کے ذریعے انسانی جسم تک پہنچ جاتے ہیں۔
2024 کی ایک تحقیق کے مطابق دل کی شریانوں میں مائیکرو پلاسٹکس رکھنے والے افراد میں ہارٹ اٹیک، فالج اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹروکیمیکل صنعت کے قریب رہنے والی آبادیوں خصوصاً لوزیانا کی کینسر ایلی میں کینسر کی شرح قومی اوسط سے کئی گنا زیادہ ہے۔
اینک کے مطابق ہمارا زِپ کوڈ ہماری صحت کا فیصلہ کر رہا ہے، اسی لیے پلاسٹک ایک بڑا ماحولیاتی انصاف کا مسئلہ ہے، جو زیادہ تر کم آمدنی اور رنگ دار برادریوں کو متاثر کرتا ہے۔
اگرچہ حالیہ برسوں میں عالمی پلاسٹک معاہدے کی ناکامی اور سنگل یوز پلاسٹکس پر پابندیوں کی واپسی جیسے اقدامات مایوس کن رہے، مگر اینک ریاستی اور مقامی سطح پر پیش رفت دیکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر نیو جرسی کے اسکِپ دی اسٹف قانون کے تحت ریستوران یک بار استعمال ہونے والی کٹلری صرف درخواست پر فراہم کریں گے۔ جس سے فضلہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔
اینک صارفین کو قصوروار ٹھہرانے کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق اصل حل نظامی تبدیلی ہے یعنی ایسے قوانین جو پلاسٹک کی پیداوار اور استعمال کو لازمی طور پر کم کریں۔











