اہم ترین

پرانا عالمی نظام بکھر رہا ہے ایک نئے عہد کا آغاز ہو چکا : جرمن چانسلر

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے کہا ہے کہ دنیا کا پرانا عالمی نظام غیر معمولی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے اور ایک نئے دور کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی طویل عرصے سے قائم عالمی برتری کو اب روس اور چین جیسے ممالک کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے سنجیدہ چیلنج درپیش ہے۔

جرمن چانسلر کے مطابق دنیا ایک بار پھر بڑی طاقتوں کی سیاست کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں تعلقات طاقت، دباؤ اور بعض اوقات جبر کی بنیاد پر طے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نیا عالمی منظرنامہ کسی طور پُرسکون نہیں ہوگا۔

فریڈرش میرس نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ بدلتی ہوئی حقیقت کو جلد تسلیم کریں اور اس کے مطابق اپنی پالیسیاں تشکیل دیں، کیونکہ موجودہ ورلڈ آرڈر تیزی سے بکھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ روس کا یوکرین پر حملہ ایک اہم موڑ ثابت ہوا، مگر عالمی تبدیلیوں کی بنیادیں اس واقعے سے بھی کہیں زیادہ گہری ہیں۔

ان کے مطابق چین نے طویل المدتی حکمتِ عملی کے ذریعے خود کو بڑی طاقتوں میں شامل کر لیا ہے، جبکہ امریکہ اپنی عالمی حیثیت کو درپیش چیلنجز کے جواب میں خارجہ اور سکیورٹی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں کر رہا ہے۔

تاہم جرمن چانسلر نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا اس نئے عالمی نظام کے سامنے بے بس نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کے پاس اب بھی انتخاب موجود ہے اور مستقبل کو نئی سمت دی جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ تلخ حقائق کا سامنا کیا جائے اور حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔

پاکستان