جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں پاکستانی ہوں اور بارہا اس کا حلف اٹھا چکا ہوں جس علاقے میں 45 سال خون رستا ہو وہاں پھر قیام امن نہیں جغرافیائی تبدیلیوں کے تقاضے ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں قومی پالیسیاں ہمیشہ بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی رہی ہیں اور کبھی بھی خالصتاً قومی مفاد کو سامنے رکھ کر خارجہ پالیسی ترتیب نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق بانیٔ پاکستان نے اسرائیل کے قیام کے معاملے پر واضح اور تاریخی مؤقف اختیار کیا تھا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 1940 کی قراردادِ پاکستان کی روح کے مطابق، 1948 میں اسرائیل کے قیام کو بانیٔ پاکستان نے ناجائز قرار دیا، مگر آج ہم ان کے فرمودات پر عمل کرنے کے بجائے محض رسمی گفتگو تک محدود ہو چکے ہیں۔ آزادی کی قیمت انتہائی بھاری رہی، پچاس ہزار سے زائد علما کو پھانسی دی گئی، مگر کسی نے بھی آزادی سے دستبردار ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ خود انگریز حکمرانوں نے اعتراف کیا کہ کسی عالم نے آزادی کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج ہم یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ فلسطینیوں کے امن اور سکون کے لیے وہاں جا رہے ہیں، حالانکہ جن طاقتوں سے امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، انہی کے ہاتھوں یہ تباہی ہوئی۔ ان کے بقول ایسے عناصر سے بہتری کی توقع رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو اس ایوان کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی کابینہ کو بتایا گیا کہ کن فیصلوں پر عمل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ شملہ معاہدے کے موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے پورے ایوان کو اعتماد میں لیا تھا، حتیٰ کہ اپوزیشن نے بھی اس کی حمایت کی، کیونکہ اُس وقت نوّے ہزار پاکستانی قیدیوں کا معاملہ درپیش تھا۔ مگر قبلۂ اول جیسے حساس مسئلے پر قوم اور پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا گیا۔
انہوں نے بورڈ آف پیس کے قیام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی موجودگی میں یہ ایک متوازی فورم معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی طاقتیں امن کے نام پر افغانستان، عراق اور لیبیا گئیں اور ان ممالک کو کھنڈر بنا کر چھوڑ دیا، جو آج تک سنبھل نہیں سکے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت اب فلسطین کو معاشی استحکام دینے کی بات کر رہی ہے، جبکہ اپنے ملک میں گزشتہ پچیس برسوں سے بدامنی جاری ہے۔ کئی اضلاع میں ریاستی رٹ قائم نہیں، مسلح گروہ ٹیکس وصول کر رہے ہیں، سیکیورٹی چوکیاں ان کے حوالے کی جا رہی ہیں اور سرکاری افسران جان بچانے کے لیے بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق لکی مروت، ٹانک اور دیگر علاقوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے، جہاں بغیر بھتے کے کوئی ترقیاتی کام ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب اپنے ملک کے شہری، خواتین اور بچے محفوظ نہیں تو غزہ جا کر خود کو مظلوموں کا ہمدرد ظاہر کرنا دوہرا معیار ہے۔ فلسطینی یقیناً مظلوم ہیں، مگر پالیسیوں کو درست سمت میں لانا بھی ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کشمیر اور بنگال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات میں بھی قوم کو جواب نہیں دیا گیا کہ غلطیاں کیوں ہوئیں۔ ان کے مطابق جہاں دہائیوں تک خون بہتا رہے، وہاں امن کے قیام کے لیے جغرافیائی اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سب کچھ اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے، عوام حتیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں۔ ان کے بقول غزہ پیس بورڈ میں شمولیت دراصل سابق امریکی صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، نہ کہ حقیقی امن کی سنجیدہ کاوش۔











