بھارت آئندہ ماہ ہونے والے ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ کو ایک بڑے اسپورٹس میزبان کے طور پر اپنی ساکھ مضبوط بنانے اور 2036 اولمپکس کی میزبانی کے خواب کی طرف ایک اہم قدم سمجھ رہا تھا، لیکن اب یہ ایونٹ بنگلا دیش کے ساتھ سفارتی تنازع اور سیاسی مداخلت کے الزامات کی نذر ہو گیا ہے۔
ورلڈ کپ کے آغاز میں صرف دو ہفتے باقی ہیں، مگر بنگلا دیش کی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت میں میچ کھیلنے کو تیار نہیں۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبُل نے کہا کہ ان کی واحد شرط یہ ہے کہ میچز سری لنکا میں کروائے جائیں، لیکن آئی سی سی نے سیکیورٹی خدشات کو ناقابلِ تصدیق قرار دیتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔
اگر بنگلا دیش ایونٹ سے باہر ہوتا ہے تو امکان ہے کہ اسکاٹ لینڈ کو آخری لمحات میں شامل کیا جائے، جو آئی سی سی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
بھارت اس وقت 2030 کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے اور 2036 اولمپکس کے لیے بھی امیدوار ہے۔ لیکن ٹی20 ورلڈ کپ کے غیر یقینی اور متنازع انتظامات نے ان خوابوں پر سایہ ڈال دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ لاس اینجلس 2028 میں کرکٹ اولمپکس میں واپس آ رہی ہے۔
کرکٹ میں بھارت کی بالادستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ دنیا کے تقریباً 90 فیصد کرکٹ شائقین جنوبی ایشیا میں ہیں، اور عالمی کرکٹ کی آمدنی کا بڑا حصہ بھارت سے آتا ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو اسی مالی طاقت کی وجہ سے عالمی کرکٹ پر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے فیصلے بھی اب آزاد نہیں رہے۔ بھارتی وزیرِ داخلہ امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ اس وقت آئی سی سی کے چیئرمین ہیں، جس سے سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
معاملہ اس وقت مزید بگڑا جب آئی پی ایل ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ٹیم سے نکالنے کا حکم دیا گیا، جس پر ڈھاکا میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔
بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے اسپورٹس مشیر آصف نذرل نے کہا کہ کرکٹ پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ اگر آئی سی سی واقعی عالمی ادارہ ہے تو ہمیں سری لنکا میں ورلڈ کپ کھیلنے کی اجازت دی جائے۔
ماہرین کے مطابق یہ تنازع صرف کرکٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ بھارت کی عالمی اسپورٹس قیادت اور اولمپک امنگوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔











