اہم ترین

کینسر کے علاج کے لئے تحقیق میں انقلاب: اےآئی ریڈی اوپن ڈیٹابیس کا آغاز

امریکی ادارے کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی آرآئی) نے دنیا کا پہلا اے آئی ریڈی اوپن امیونوتھراپی ڈیٹابیس متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد کینسر کے جدید علاج، خاص طور پر امیونوتھراپی کی تحقیق کو تیز کرنا ہے۔

امریکی ویب سائیٹ کے مطابق اسٹینفرڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف پنسلوانیا، میموریل سلوان کیٹرنگ کینسر سینٹر اور بایوٹیک کمپنی ایکس جینومکس 10 کے تعاون سے سی آر آئی نے ایک نئے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔

سی آر آئی ڈسکوری انجن نامی یہ پلیٹ فارم جو سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ وقت کے ساتھ ساتھ مدافعتی نظام کینسر کے علاج پر کیسے ردِعمل دیتا ہے ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو برسوں سے محققین کے لیے چیلنج بنا ہوا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کینسر سےمتعلق تحقیق میں ڈیٹا کا محدود اشتراک اور تحقیقی نتائج کا دوبارہ ثابت نہ ہو پانا جیسے دو سب سے بڑے مسائل سامنے آتے ہیں۔

کینسر سے متعلق شائع ہونے والی نصف سے بھی کم تحقیقات قابلِ اعتماد طریقے سے دوبارہ ثابت ہو سکی ہیں۔ اس کے علاوہ اندازاً صرف 16 فیصد کینسر ڈیٹا عوامی طور پر دستیاب ہے، جبکہ محض ایک فیصد ڈیٹا ایسا ہے جسے دوسرے محققین مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔

سی آر آئی ڈسکوری انجن ان مسائل کو حل کرنے کے لیے معیاری، اعلیٰ معیار کا اور اے آئی کے لیے موزوں ڈیٹا فراہم کرے گا، تاکہ دنیا بھر کے سائنس دان ایک ہی بنیاد پر تحقیق کر سکیں۔

اس ڈیٹابیس کے پہلے مرحلے میں میلانوما اور کولوریکٹل (بڑی آنت) کینسر پر توجہ دی جائے گی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف کامیاب علاج ہی نہیں بلکہ ناکام علاج کے نتائج بھی شامل کیے جائیں گے۔

ناکام تجربات عام طور پر شائع نہیں کیے جاتے، حالانکہ وہ یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کوئی علاج کیوں کام نہیں کر سکا۔ ماہرین کے مطابق یہی معلومات مستقبل کے بہتر علاج کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

سی آرآئی کی سی ای او ڈاکٹر ایلیشیا ژو کے مطابق امیونوتھراپی ایک زندہ علاج ہے، جس کے اثرات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ ہمارا مقصد اس ڈیٹا کو اے آئی کے ذریعے قابلِ فہم بنا کر دریافت کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

یہ ڈیٹابیس اوپن ایکسس ہوگا، یعنی دنیا بھر کے محققین اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور وقت کے ساتھ اپنا ڈیٹا بھی شامل کر سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل میں کینسر کے علاج کے طریقے بدل سکتا ہے اور لیبارٹری سے مریض تک علاج پہنچنے کا سفر کم کر سکتا ہے۔

پاکستان