اہم ترین

معیار نہیں پروپیگنڈا !بالی ووڈ کی پاکستان مخالف فلموں میں بڑے ستارے کےتماشے

اس میں کوئی دو رائے نہیں بھارتی فلم نگری کو دو ارب سے زائد انسانوں تک رسائی حاصل ہے۔ لیکن بالی وُڈ کی سنیما اسکرین پر اب صرف کہانی نہیں، بلکہ تماشا چھایا ہوا ہے!

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کی طرح 2026 میں بھی آنے والی فلمیں جنگی ڈرامے، جاسوسی تھرلرز اور نام نہاد قومی بیانیے سے بھرپور ہوں گی ، جہاں طاقت اور لڑائی کہانی سے زیادہ اہم ہیں۔ فلم ساز اب بڑے بجٹ اور شاندار اسٹارز کے ذریعے ناظرین خاص طور پر نوجوانوں، کو سینما گھروں کی طرف واپس کھینچنے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔

فلم نمائش کار اکشے راتھی کے مطابق رواں سال ہندی باکس آفس میں 45 سے 50 فیصد اضافہ اور نوجوان ناظرین میں 25 فیصد اضافہ متوقع ہے، اور اس کے ساتھ ہی سنیما گھروں کا ماحول ایونٹ موڈ میں بدل رہا ہے۔

تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ بولی وُڈ اب سیاسی اور قومی بیانیے پر چلتی جا رہی ہے۔ 2022 کی ’دی کشمیر فائلز‘ نے ریکارڈ بزنس کیا، مگر 2025 کی ’دی بنگال فائلز‘ تباہ ہو گئی۔ پاکستان مخالف فلمیں اور دشمنی کے مناظر اب سوشل میڈیا اور ناظرین کی ڈیمانڈ کے مطابق چلتی ہیں۔

سینیئر فلم ناقد ارناب بینرجی کہتے ہیں معیار نہیں، پروپیگنڈا چل رہا ہے! پاکستان مخالف اور دشمن کے حوالے بغیر سوال کے قبول کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ہدایت کار احمد خان کا کہنا ہے کہ اچھی کہانی اب بھی چل سکتی ہے، چاہے ایکشن، ڈرامہ، کامیڈی یا ہارر ہو۔ مثال کے طور پر 2025 کی رومانوی ڈرامہ فلم سیارا اور ہائی وولٹیج ایکشن دھرندھر دونوں نے زبردست بزنس کیا۔

یہ صرف فلمیں نہیں، بلکہ ایونٹ سینما بن چکی ہیں۔سوال صرف یہ ہے: کیا یہ تماشا صرف پیسے اور ناظرین کے لیے ہے، یا سچ میں کہانی اور فن کی واپسی بھی ممکن ہے؟

پاکستان