سائنسدانوں نے زمین کی تاریخ کے 66 ملین سال پرانے ایک بڑے ماحولیاتی معمہ کو حل کر لیا ہے، جس سے یہ راز سامنے آیا ہے کہ زمین کس طرح ایک گرم ’’گرین ہاؤس‘‘ سیارے سے موجودہ برف پوش دنیا میں تبدیل ہوئی۔
سائنسی تحقیق سے متعلق بین الاقوامی جریدے پروسیڈنگز آف دی دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کی قیادت میں کی گئی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سمندروں میں کیلشیم کی مقدار وقت کے ساتھ 50 فیصد سے زائد کم ہو گئی، جس کے نتیجے میں فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سمندروں میں جذب ہوتی چلی گئی اور زمین پر طویل المدت ٹھنڈک کا عمل شروع ہوا۔
تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے قدیم سمندروں میں پائے جانے والے نہایت باریک جانداروں (فوسلز) کے کیمیائی آثار کا تجزیہ کیا۔ نتائج سے پتا چلا کہ سینوزوئک دور میں سمندروں میں تحلیل شدہ کیلشیم کی مقدار آج کے مقابلے میں تقریباً دو گنا تھی۔
کمپیوٹر ماڈلز سے یہ بات سامنے آئی کہ جب سمندروں میں کیلشیم کی سطح زیادہ ہوتی ہے تو وہ کم کاربن محفوظ رکھتے ہیں اور زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں خارج ہوتی ہے۔ جبکہ کیلشیم کی سطح میں کمی آنے سے سمندر زیادہ کاربن جذب کرنے لگتے ہیں، جس سے گرین ہاؤس گیسز فضا سے کم ہو جاتی ہیں۔
تحقیق میں شامل سائنسدانوں کے مطابق جیسے جیسے کیلشیم کی سطح کم ہوئی، سمندری حیات نے کیلشیم کاربونیٹ بنانے کا طریقہ بدل لیا، جس کے باعث فضا سے بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب ہو کر سمندروں کی تہہ میں محفوظ ہوتی چلی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل زمین کے اندرونی حصے (ڈیپ ارتھ) میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سمندری فرش کی پھیلاؤ کی رفتار کم ہونے سے سمندری کیمیا تبدیل ہوئی، جس نے عالمی موسمی نظام پر گہرا اثر ڈالا۔
سائنسدانوں کے مطابق اس تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سمندروں کی کیمیائی ساخت میں تبدیلیاں ماضی میں زمین کے موسم کو کنٹرول کرنے کا ایک بڑا سبب رہی ہیں۔











