اہم ترین

داعش کے خلاف امریکا نائجیریا عسکری شراکت داری میں اضافہ

امریکا نے نائجیریا کے ساتھ فوجی تعاون میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے تحت انٹیلی جنس شیئرنگ اور عسکری سازوسامان کی فراہمی تیز کی جا رہی ہے۔ امریکی افریقہ کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جان برینن نے بتایا کہ یہ اقدام افریقہ میں داعش سے منسلک شدت پسندوں کے خلاف وسیع امریکی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نائجیریا کو فوجی سازوسامان کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں کم کر رہا ہے تاکہ مقامی فورسز شدت پسند تنظیموں کے خلاف زیادہ مؤثر کارروائیاں کر سکیں۔ برینن کے مطابق امریکا اب شراکت دار ممالک کو کم پابندیوں کے ساتھ آلات اور صلاحیتیں فراہم کر رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل برینن نے کہا کہ صومالیہ سے نائجیریا تک دہشت گردی کا مسئلہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، اور ہم اسے توڑنے کے لیے شراکت داروں کو بروقت معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے دسمبر میں کرسمس کے موقع پر نائجیریا کے شمال مغربی علاقے سوکوٹو میں داعش سے منسلک اہداف پر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے بعد امریکا اور نائجیریا کے درمیان پہلا مشترکہ ورکنگ گروپ اجلاس بھی منعقد ہوا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے نائجیریا پر مذہبی تشدد، خصوصاً مسیحیوں کے تحفظ کے حوالے سے سفارتی دباؤ بھی ڈالا ہے، تاہم نائجیریا کی حکومت اور آزاد تجزیہ کار اس مؤقف کو یکطرفہ قرار دیتے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس تعاون کسی ایک مذہبی گروہ تک محدود نہیں ہوگا۔ امریکا کا فوکس نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں سرگرم بوکو حرام اور اس کی حریف تنظیم اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقا پروونس پر ہے، جسے امریکا خطے کی سب سے خطرناک تنظیم قرار دے رہا ہے۔

امریکی افریقا کمانڈ کے مطابق امریکا نے برکینا فاسو، مالی اور نائجر جیسے ساحل کے فوجی حکومتوں والے ممالک کے ساتھ بھی غیر رسمی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ وہاں فوجی بغاوتوں کے بعد باضابطہ تعاون محدود ہو چکا ہے۔

برینن نے واضح کیا کہ امریکا نائجر میں بند ہونے والے ڈرون اڈے کے متبادل کے طور پر کسی نئے فوجی اڈے کے قیام کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ ضرورت کے مطابق تعاون اور پھر واپسی کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔

پاکستان