اہم ترین

دنیا کے 3 ارب 80 کروڑ افراد شدید گرمی کا سامنا کر سکتے ہیں:سائنسدانوں کی وارننگ

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ 2050 تک دنیا بھر میں تقریباً 3 ارب 80 کروڑ افراد شدید گرمی کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کا سب سے زیادہ اثر گرم اور غریب ممالک پر پڑے گا، لیکن ٹھنڈے خطوں کے ممالک کو بھی اس خطرے کے لیے خود کو ڈھالنا ہوگا۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ماہرین کے مطابق برازیل، انڈونیشیا اور نائجیریا جیسے بڑے ممالک میں ٹھنڈک کے ذرائع کی طلب میں انتہائی اضافہ ہوگا، جہاں کروڑوں افراد کے پاس ایئر کنڈیشننگ یا دیگر سہولیات موجود نہیں۔

مطالعے کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ گیا تو شدید گرمی سے متاثر ہونے والی آبادی تقریباً دگنی ہو جائے گی۔ تاہم تحقیق کے مرکزی مصنف جیسس لیزانا کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات اسی دہائی میں نمایاں ہونا شروع ہو جائیں گے کیونکہ دنیا تیزی سے 1.5 ڈگری کی حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی انسانی جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے، جس سے چکر، سر درد، اعضا کی ناکامی اور حتیٰ کہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اسی لیے گرمی کو ایک “خاموش قاتل” قرار دیا جاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ افریقی اور خط استوا کے قریب واقع ممالک جیسے وسطی افریقی جمہوریہ، نائجیریا، جنوبی سوڈان، لاؤس اور برازیل میں خطرناک حد تک گرم دنوں میں سب سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔ بھارت، فلپائن اور بنگلا دیش ان ممالک میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ آبادی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کینیڈا، روس اور فن لینڈ جیسے ٹھنڈے ممالک بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں۔ اگرچہ وہاں سردی کے دن کم ہو سکتے ہیں، لیکن عمارتوں اور انفراسٹرکچر کی ساخت گرمی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، جس سے مستقبل میں بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق اگر فوری طور پر پائیدار ایئر کنڈیشننگ، قدرتی ٹھنڈک اور بہتر انفراسٹرکچر پر کام نہ کیا گیا تو دنیا آنے والے برسوں میں شدید گرمی کے بحران کے لیے خطرناک حد تک غیر تیار رہے گی۔

پاکستان