بھارت کی سابق رکنِ پارلیمنٹ اور معروف بنگالی اداکارہ مِمی چکرورتی نے ہندوستانی یومِ جمہوریہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران اپنے ساتھ بدسلوکی اور ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے۔ مِمی کے مطابق بنگاؤں میں ہونے والے اس پروگرام میں پرفارمنس کے دوران انہیں اچانک اسٹیج چھوڑنے کا حکم دیا گیا اور بعد ازاں مائیکروفون پر ان کے خلاف توہین آمیز ریمارکس بھی کیے گئے، جسے انہوں نے اپنی عزت و وقار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
مِمی چکرورتی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یومِ جمہوریہ آزادی اور برابری کی علامت ہے، مگر افسوس کہ آج بھی خواتین اور فنکاروں کی عزت اور آزادی سے سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ برسوں کی محنت سے اپنی شناخت بنا چکی ہیں اور اب خاموش رہنا ایسے رویوں کو معمول بنا دے گا۔ اسی بنا پر انہوں نے واقعے کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرا دی ہے۔
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مِمی نے کہا کہ وہ اسٹیج پر پرفارم کر رہی تھیں کہ اچانک ایک شخص آیا اور انہیں فوراً اسٹیج چھوڑنے کو کہا۔ ابتدا میں وہ بات سمجھ نہ سکیں، مگر دوبارہ سخت لہجے میں کہا گیا کہ فوراً نیچے اتریں۔ مِمی کے مطابق اس کے بعد مائیک پر ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو نہایت توہین آمیز تھے۔ اس صورتحال کے بعد انہوں نے پولیس اسٹیشن کے انچارج سے رابطہ کیا اور قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔
دوسری جانب پروگرام کے منتظمین نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تقریب مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی تھی۔ پروگرام آرگنائزر اجے بنک نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں صرف دوپہر 12 بجے تک کی اجازت تھی، جبکہ مِمی چکرورتی 11:30 بجے پہنچیں اور 12:45 پر اسٹیج پر آئیں، اسی وجہ سے انہیں پرفارمنس روکنے کا کہا گیا۔
اجے بنک نے یہ بھی کہا کہ اگر واقعی کوئی نامناسب جملے کہے گئے ہیں تو یہ غلط ہے۔ ان کے بقول نیت بدتمیزی کی نہیں تھی، مگر اتنی بڑی فنکارہ کے لیے یہ صورتحال یقیناً تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے آخر میں کلب کی جانب سے واقعے پر معذرت کا اظہار بھی کیا۔











