فرانس میں 2018 سے 11 سے 15 سال کے بچوں کے لیے اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہے ۔ اور اب ایوانِ زیریں نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کا بل بھی منظور کر لیا ہے۔ اس بل کو صدر ایمانوئل میکرون کی بھرپور حمایت حاصل تھی، جنہوں نے اسے بچوں کو اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال اور ذہنی نقصان سے بچانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
قومی اسمبلی میں رات گئے ہونے والے طویل اجلاس کے بعد بل 21 کے مقابلے میں 130 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ اب یہ مسودہ قانون سازی کے اگلے مرحلے کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں منظوری کے بعد یہ باقاعدہ قانون بن جائے گا۔
صدر میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں اس ووٹنگ کو فرانسیسی بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے “ایک بڑا سنگِ میل” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں اور نوجوانوں کے جذبات کسی امریکی پلیٹ فارم یا چینی الگورتھم کے ہاتھوں فروخت یا استعمال کے لیے نہیں ہیں۔
اس قانون کے تحت نہ صرف 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی جائے گی بلکہ ہائی اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر بھی قدغن لگائی جائے گی۔ اس اقدام کے بعد فرانس، آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک بن جائے گا جہاں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی نافذ کی جا رہی ہے۔
حکومت کا منصوبہ ہے کہ یہ پابندی 2026 کے تعلیمی سال کے آغاز سے نئے اکاؤنٹس پر لاگو کی جائے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 31 دسمبر 2026 تک غیر قانونی اکاؤنٹس ختم کرنے کی مہلت دی جائے گی۔
سابق وزیرِ اعظم اور حکمران جماعت کے رہنما گیبریل اٹال نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف نوجوانوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ اُن طاقتوں کا بھی مقابلہ کرے گا جو سوشل میڈیا کے ذریعے ذہنوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔
تاہم اس بل پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ بائیں بازو کی جماعت فرانس اَنبوڈ کے رہنما آرنو سینٹ مارٹن نے اسے ڈیجیٹل سرپرستی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کا ایک سادہ اور غیر مؤثر حل ہے۔ جبکہ بچوں کے تحفظ کی تنظیموں نے پابندی کے بجائے سوشل میڈیا کمپنیوں کو جوابدہ بنانے پر زور دیا ہے۔











